فیض اللہ فراق پر کرپشن کا الزام لگا کر ہٹانے کے خلاف دیامر ریجن سے مسلم لیگ نون کے اہم رہنما سمیت دیگر پارٹیوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

0 0

چلاس(بیورورپورٹ)ترجمان دیامر بھاشہ ڈیم کمیٹی حاجی نجیب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان کے کرپٹ حکمران فیض اللہ فراق جیسے حق گو انسان کو کیسے برداشت اور تسلیم کر سکتے تھے،وزیر اعلی حفیظ الرحمن نے ہمیشہ اپنی کُرسی بچانے کیلئے اور نااہل نواز شریف کو بچانے کیلئے ریاست کے خلاف بیانات دیئے اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ساتھ ملکردوسرے ملک کے ساتھ الحاق کا عندیا دیا اور کبھی فوج اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی کی ۔انہوں نے کہا کہ فیض اللہ فراق نے ان تمام معاملات کو زبردست انداز میں دانشمندی کے ساتھ نمٹایا اور کرپٹ حکمرانوں کو سیدھا راستہ دیکھانے کیلئے صاف گوئی سے کام کیا اور صیح راستہ دیکھایا تو کرپٹ لوگوں کو یہ برا لگا اور فیض اللہ فراق کے خلاف اعلی سطح پر مخصوص بیوروکریٹس اور حکمرانوں نے سازش کی اور راہ حق سے اُٹھانے میں کامیاب ہوگئے ،اور اب یہ حکمران گلگت بلتستان میں بلا خوف و خطر کرپشن کا بازار گرم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے ہمیشہ مشکل وقت میں دیامر کا نام استعمال کرکے اپنی سیاسی دکان چمکایا ہے ،لیکن افسوس کا مقام ہے کہ دیامر کی ترقی کا نشان اور ایک عظیم انسان فیض اللہ فراق کو برداشت نہیں کر سکا ،ضلع دیامر کی قوم حفیظ سرکار کی اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ حفیظ آئندہ دیامر سے کسی چیز کی توقع نہ رکھیں ۔دوسری طرف مسلم لیگ ن دیامر کے سینئر مرکزی رہنما سید رحمت شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فیض اللہ فراق دیامر کی پہچان ہیں ،چند نامولود پریس کانفرنس کو آڑ بناکر دیامر کی آواز کو خاموش کرانا دیامر کے اجتماعی مفادات کے خلاف گہری سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ فیض اللہ فراق کے حوالے سے وزیر اعلی کا جذباتی فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔پاکستان میں مسلم لیگ ن کے رہنماوں کو نکالنے کیلئے عدلیہ پیچھے لگی ہے اور گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کے عہدیداروں کو کھڈے لائن لگانے کیلئے وزیر اعلی پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ گلگت بلتستان میں مظبوط اور فعال بنانیوالوں کو نکالنا پارٹی کے مفاد میں نہیں ، پارٹی معاملات میں وزیر اعلی بیوروکریسی کی باتوں میں نہ آئیں اور پارٹی سے مشاورت کے بعد فیصلے کریں ۔ اسکے علاوہ مسلم لیگ ن دیامر کے مرکزی رہنما چوہدری محمد جعفر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعلی نے فیض اللہ فراق کو عہدے سے معطل کرکے پوری دیامر کے ساتھ بدترین ظلم اور زیادتی کی ہے ،اور اپنے دائیں بازو کو کاٹ دیا ہے،وزیر اعلی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور فراق کو فوری بحال کرے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی معامالات میں بیوروکریسی کی مداخلت ہرگز قبول نہیں ،وزیر اعلی آج کل جذباتی فیصلے کرکے شہید سیف الرحمن کی روح کو تکلیف اور بیوروکریٹس کو سکون پہنچا رہے ہیں ،اسطرح کے غلط فیصلے مسلم لیگ ن تسلیم کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور پاکستان میں دیامر کی نمائندگی کرنے والے فیض اللہ فراق کو راستے سے ہٹاکر دیامر کو مزید تاریکی میں ڈالنے کی سازش ہے ،اس سازش کو بے نقاب کیا جائے،انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ فیض اللہ فراق دیامر اور پوری جی بی کے توانا آواز ہیں ،اس آواز کے ساتھ ہم دیامر کے پوری قوم ہم آواز ہے اور فیض اللہ فراق کے خلاف سازش کو جلد بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے مرکزی رہنما حاجی مبین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فیض اللہ فراق کو عہدے سے معطل کرکے دیامر کے پوری قوم کی زبان کاٹ دی گئی ،انہوں نے کہا کہ فیض اللہ فراق دیامر کی توانا آواز تھے اور یہاں کے مثبت چہرے کو پوری دنیا میں اُجاگر کررہے تھے۔حفیظ نے دیامر کے ساتھ بڑا ظلم کیا ،ہم اس ظلم کا ضرور حساب لیں گے۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے اگر یہی رویہ جاری رہا تو دیامر میں گو حفیظ گو کا نعرہ لگایا جائیگا ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website