1971 سقوط ڈھاکہ ،سقوط کافر پہاڑ ہندورمان کی تلخ یادوں کے سلسلے میں درد جدائی ایک اور کہانی لیکر آپکی خدمت میں حاضر ہوں ۔
ان کہانیوں کا مقصد اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ کو منظبط کرنا اور بچھڑے خاندانوں کی ملاپ کیلئے انسانی بنیادوں پر آواز اٹھانا ہے ۔
حاجی حسین ولد غلام عباس قوم گرگوپہ ساکن ہندور مو کی شادی برولمو حاجی عیسیٰ علی کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی ۔
حاجی عیسیٰ علی کے بیوی کے ساتھ آئی ہوئی بیٹی زھرا کی شادی المعروف چھوٹا عباس ساکن ہندورمو برق سے ہوئی ۔
دسمبر 1971 میں “لوسر” کی تہوار میں شرکت کیلئے برولمو آئے ۔
باپ نے کہا بیٹیو کیا جلدی ہے ممنی پوپوت بھی کرکے جاؤ ۔
باپ کی اصرار پر بیٹیوں نے کچھ دن اور ٹہر نے کا فیصلہ کیا ۔
ابھی چند دن گزرے تھے کہ پاکستان اینڈیا کے درمیان جنگ چھیڑ گئی ۔
حالات کے نارمل ہونے کا انتظار کرنے لگے کسے کیا پتہ یہ انتظار انتظار قیامت ہوگی !!!!!!
ایک دن اچانک سیزفائیر کا اعلان ہوا نہ ادھر سے ادھر اور نہ ہی وہاں سے یہاں کوئی آسکتا تھا ۔
سرحد پہ آکر دونوں فوجیوں کو دھائیاں دیتے دیتے تھک ہار کر بیٹھ گئے ۔
دعائیں ، التجائیں اور فریادیں کئی سال جاری رہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ مایوسی کی بادل پھیلنے لگے یوں مجبورا دونوں جوڑوں نے شرعاً آزاد ہونے کا فیصلہ کیا ۔
رشتہ محبت ، رشتہ ازدواج اور رشتہ زندگی سے جدا ہونا کس قدر اذیت ناک اور درد ناک ہوتے ہیں اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنہوں نے اسے سہے ہیں ۔
کئی سال انہوں نے شادی نہیں کئے لیکن آخر زندہ گی تو گزار نی ہی تھیں ادھر ان دونوں بہنوں کی شادی ہوئے اور وہاں اینڈیا میں عباس اور حسین نے بھی شادی کی ۔
حسین 2011 میں پانچ ہزار میل سفر طے کرکے اپنے بچھڑے خاندان جس میں اپنے سگی بہن کی قبر اور انکے چار بھانجوں و ایک بھانجی سے ملنے واہگہ کے راستے پاکستان آئے ۔
انکا بڑا بھانجا محمد ھادی ولد حاجی علی گرگوپہ برولمو جو اس وقت کراچی میں مقیم ہے (المعروف امی علی پہ ) نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا ماموں حسین ہزاروں میل کی مسافت سے کئی دہائیاں انتظار کرنے کے بعد اپنی بہن کی قبر کو سینے سے لگانے کی تمنا و خواہش میں پاکستان آئے تھے۔
مگر بد قسمتی سے انہیں صرف کراچی تک آنے کی اجازت ملی😢 وہ اپنی بہن کی قبر بھی نہیں دیکھ سکا صرف اپنے بھانجوں اور بھانجیوں سے مل سکے ۔
کراچی میں انکی آمد کی خبر انکی سابقہ بیوی نے بھی سنی تو انکی چہرے کی رنگت ہی بدل گئی وہ یکدم حال سے ماضی میں پہنچ گئی اور وہ تمام گزرے واقعات اور حادثات ایک فلم کی طرح انکی تصور کی سکرین پر یکے بعد دیگرے نمودار ہوتا گیا ۔
دوسری جانب حسین کو جب بتایا گیا کہ انکی سابقہ بیوی بھی یہیں گھر بسائے بیٹھی ہے تو انکی حالت بھی مختلف نہیں تھی ۔
دونوں کی ملاقات ہوئی تو دل کے پھ پھولے جل اٹھے سینے کی داغ سے ۔
ایک دوسرے سے آنکھیں کیا چار ہوئیں کہ صدیوں کے فا صلے لمحوں میں طے ہوئی ۔
آنکھوں آنکھوں میں شکایتوں ، محبتوں اور رفاقتوں کا سمندر طے ہوئے ۔
ایک جھلک دیکھنے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے آئے اور لمحوں میں کائنات کی سیر کر کے حسین واپس گھر کو لوٹے ۔
لیکن آپ زرا ان ہزاروں بچھڑوں کا سوچیں جو ایک دیوار کے دوری پہ ،ایک لکیر کے پار دہائیوں سے ایک دوسرے کا ایک جھلک دیکھنے کیلئے اپنی آنکھیں سفید کرچکے ہیں ، جگر کباب ہوچکے ، آس ٹوٹتے بکھیرتے کشمیر ، واہگہ اور کرتالپور راہداریاں کھلنے کی خبریں آنے تو پھر سے ایک امید قائم ہونے لگی کہ کرگل سکردو ، خپلو لداخ راہداری بھی کھلے گی ۔
محمد ھادی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی میرے تین مامو محمد، حسین اور حاجی موسیٰ بقید حیات ہیں الحمد للّہ اور ہم لوگ صبح و شام اس خونی لکیر کے ہٹنے کی دعائیں کر رہے ہیں تاکہ زندگی میں ایک بار باھم بغلگیر ہوکر مرسکیں۔
مگر مامو شیخ علی نجفی کا بھی انتقال ہوا ہے ۔
مگر یہ کیا ساری راہداریاں انسانیت کی ہمدردی میں کھل گئیں اور اگر نہ کھل سکیں تو صدیوں سے جاری کرگل سکردو روڈ ،خپلو لداخ شاہراہ کے باسیوں کیلئے دروازے بند رہے۔
لھذا !! ہم دونوں حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ کرگل سکردو روڈ ،لداخ خپلو روڈ کو جلد از جلد بچھڑے خاندانوں کی ملاقات کیلئے کھول دیا جائے ۔
تحریر و تحقیق؛
بو علی رضوانی:
More Stories
عوامی نمائندے سٹیٹ سبجیکٹ رول سے خائف کیوں۔۔؟ٖٖ
پاکستانی میڈیا کی نظروں سے اوجھل گلگت بلتستان کے سلگتے مسائل اور بھارتی میڈیا
جنگ آزادی گلگت بلتستان کا اصل ہیرو کون؟ مرزا حسن خان یا ولیم بروان؟