گلگت (پ،ر)وزیر اعلی گلگت بلتستان سکرٹیریٹ سے جاری بیان کے مطابق ترجمان حکومت گلگت بلتستان فیض اللہ فراق کے حوالے سے سنگین الزامات میڈیا میں آنے کے بعد بعد حکومت ایکشن میں آگیا۔ گزشتہ دنوں دیامر یوتھ کی جانب گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزاملگایا تھا کہ فیض اللہ فراق نے غیر قانونی بھرتیاں کرائی ہیں اور مختلف محفلوں میں حکومتی ترجمانی کرنے کے بجائے گلگت بلتستان کے اعلی ترین آفس اور کابینہ کے حوالے سے غیر مہذب گفتگو اور ہرزہ سرائی کرتے ہیں ۔ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد حکومت کی طرف سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ان الزامات کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی تحقیقات مکمل ہونے تک اعزازی ترجمان فیض اللہ فراق کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ اب فیض اللہ فراق حکومتی ترجمان نہیں رہے ،ان سنگین الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی میں حاجی حیدر خان وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،محاجی جانباز خان ،وزیر زراعت ،امین اللہ غز نوی ڈپٹی سیکٹری سروسسز ،احسان علی ڈپٹی سکییر ٹری صحت پر مشتمل ہے ،اس تحقیقاتی کمیٹی کے چئر مین حاجی حیدر خان ہوں گے ۔

More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا