گلگت (ڈسٹرک رپورٹر) گلگت بلتستان امپورٹ ایکسپورٹ ایسویس ایشن نے گلگت میںفیڈرل بورڈ آف رینو کی جانب سے نئی ٹیکس پالیسی اور نئے قانون کے نام پر نافذWeBOC کے خلاف گلگت پریس کلب پر پریس کانفرنس کیا۔ اُنکا کہنا تھا جو خطہ آئینی طور پر متنازعہ ہے وہاں نت نئے قوانین کا نفاذ اس خطے کے عوام پر ظلم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممبران کا کہنا تھا کہ متنازعہ خطے میں اس قسم کے غیرقانونی ٹیکسز کا نظام سی پیک کو ثبوتاز کرنے اور یہاں کے عوام کی معاشی استحصالی کی سازش ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو آئین میں شامل کرنے کا وعدہ کرکے وفاق نے ایک آرڈر کے ذریعے لینڈ رینو اور کسٹم کلٹریٹ کا دفتر قائم کیا۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کرنے کے بجائے گلگت بلتستان کو مزید متنازعہ بنایاگیا اور آئینی صوبے کے مطالبے سے صاف انکار کردیا۔ اس حوالے سے عوامی ایکشن نے احتجاج کیا اور اُس احتجاج کے نتیجے میں لینڈ اینڈ رینوڈیپارٹمنٹ کو بلکل ہی ختم کردیا لیکن سسٹ ڈرائی پورٹ پر نت نئے قوانین کے ذریعے گلگت بلتستان کے کاروباری افراد کو تنگ کرنے کاسلسلہ جاری ہیں جسے ختم ہو جانا چاہئے۔ اس موقع پر اُنہوں نے حکومت کے سامنے سات نکات پر مشتمل چارٹرڈ آف ڈیماند جاری کیا ہے جس پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں پورے گلگت بلتستان میں شٹرڈاوں ہڑتال کیا جائے گا۔


More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا