کھرمنگ (قاسم قاسمی) کھرمنگ واٹر فلٹریشن پروجیکٹ کے لئے مختص فنڈ میں بڑے پیمانے پر خردبرد کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق 2008 میں واٹر فلٹریشن کے لئے کھرمنگ آٹھ یونین کونسلز کے لئے واٹر فلٹریشن پروجیکٹ منظور ہوئے یعنی ہر یونین کونسلز کے لئے ایک ایک واٹر فلٹریشن پلانٹ رکھا گیا جس کے لئے گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ زمین کی معاوضے بھی جاری کئے گئے۔ اس پروجیکٹ کے مد میں کڑوڑوں روپئے منظور ہوئے اور زمینوں کے معاوضے کے مد میں لاکھوں روپئے بھی ادا کئے گئے۔ اسکے باوجود سوائے ایک دو کے کہیں پر بھی واٹر فلٹریشن کا نام ونشان موجود نہیں یہ پراجیکٹس آسماں کھا گئے یا زمین نگل گئی کچھ خبر نہیں عوامی فلاح کے لئے آئے ہوئے کڑوڑں روپئے کھانے والے کون ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کڑوڑوں روپئے کھا کر بھی پوچھنے والا کیوں نہیں۔ اہل علاقہ نے حکومت اور خصوصا نیب سے مطالبہ کیا ہے زمہ داروں کے خلاف کاروئی کی جائے خصوصا اس محکمہ کے خلاف جس کے زیر انتظام یہ پروجیکٹ بننا تھا۔
کھرمنگ واٹر فلٹریشن پروجیکٹ کے لئے مختص فنڈ میں بڑے پیمانے پر خردبرد کا انکشاف ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا