اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پی آئی اے میں مسافروں کا سامان غائب ہونے سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو سہولتیں دینا ہمارا مقصد ہونا چاہیےاور اس میں کسی قسم کی کوتاہی قبول نہیں کریں گے ۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پی آئی اے میں مسافروں کا سامان غائب ہونے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سول ایوی ایشن، کسٹم اور اے این ایف حکام نے رپورٹ پیش کیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہےکہ ادارے الگ الگ رپورٹ نہ دیں، ایک رپورٹ دی جائے کہ آسانی کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ؟۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بعض تجاویز پراے ایس ایف کا اعتراض سامنے آیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انا کا معاملہ ہے، ادارے اپنا اپنا کنٹرول چاہتے ہیں، اس طرح توادارے اپنی اپنی چلائیں گے، مسافروں کا کیا ہوگا؟۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ اداروں کی انا میں مسافر کہاں جائیں؟ سول ایوی ایشن کیوں مرکزی کردارادا کرتی ہے؟۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ایوی ایشن بورڈ کیوں نہیں بناتی جو سارے معاملات حل کرے، مسافروں کو سہولتیں دینا ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن اجلاس کریں اورفیصلوں سے آگاہ کیا جائے، سیکریٹری قانون وانصاف نے کہا کہ 18 گھنٹے میں ایک مرتبہ کھانا دیا جاتا ہے، قانون ہے ہر3 گھنٹے بعد کھانا دیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سول ایوی ایشن نے کیا ایکشن لیا ، مسافروں کی تکالیف برداشت نہیں کریں گے۔ایک اور جگہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے نے ریمارکس دیئے ہیں کہ میں مداخلت کا تصور نہیں رکھتا لیکن ہمیں مجبوری میں مداخلت کرنا پڑتی ہے۔
سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو بھی نہیں چھوڑا، چیف جسٹس برہم۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا