گلگت (ڈسٹرک رپورٹر) سیکرٹیری برقیات ظفر وقار تاج اپنی تمام تر ذمہ داریایوں کو ایک طرف رکھ کر شعر شاعری اور میوزک کی تیاریوں میں مکمل طور پر مصروف نظر آتا ہے۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں کم سے کم بیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کیا ہوا ہے لیکن ادارے کو اس سے کوئی غرض نہیں ۔ گلگت بلتستان پاکستان کو حسین خطہ ہے جہاں نہایت ہی آسانی کے ساتھ قلیل مدت میں کثیر بجلی پانی کے ذریعے پیدا کیا جاسکتا ہے اور پن بجلی سے نہ ہی خطہ مستفید ہوسکتا ہے بلکہ سستے داموں بجلی پیدا کرکے شہری نرخ پر پاکستان کے مختلف شہروں کو بجلی فراہم کرکے نہ صرف پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈینگ میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے بلکہ گلگت بلتستان کے قومی خزانے کو بھی بہت ذیادہ فائدہ پونچ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت گلگت بلتستان کے تمام سرکاری دفاتر میں صرف اخباری بیانات کی حد تک کام ہورہا ہے اور خود وزیر اعلی خطے کی ترقی کیلئے مقامی اخبارات میں بلند بانگ دعوں کے ذریعے وقت گزاری کررہا ہے۔یہی وجہ ہے تمام محکموں کے سیکرٹیرز کو اپنی ذمہ داریوں کا کوئی احساس نہیں بلکہ وزیر اعلی کو شعر سُنا کر داد وصول کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹیری سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکرٹیرز کا بھی نیب کے ذریعے مالیاتی معاملات کی چھان بین کرائیں تاکہ افسر شاہی کا خاتمہ ہوسکے اور خطے کے عوام نے نام مراعات وصول کرنے والوں کو عوامی مسائل اور اُس کی حل کیلئے بھی کچھ فکر لاحق ہوجائے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا