نگر ( اقبال راجوا) بجلی لوڑ شیڈنگ کے خلاف عوام چھلت ٹائون کا جرگہ اور علمدار چوک پر کئی گھنٹوں تک علامتی دھرنا،چوک ٹریفک کے لئے بند،احتجاج کی خبر سنتے ہی ایگزیکٹیو انجینئیر واٹر اینڈ پاور نگر چھلت پاورہائوس پہنچ گئے۔ جرگے کے دوران عوام کے تیور بکھر گئے محکمہء برقیات کے خلاف شدید رد عمل دینے اور بجلی نہ دینے اور لوڑ شیڈنگ ختم نہ کرنے کی صورت احتجاج کو کے کے ایچ تک بڑھانے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے فورلی بعد تحصیل چھلت نگر کی عوام نے بجلی لوڑ شیڈنگ کے خاتمے اور مکمل بجلی فراہمی کے لئے لائحہ عمل مرتب کر نے کے لئے جامع مسجد کے صحن میں ہزاروں افراد نے جرگہ لگا یا اور ضلعی ہیڈ کوارٹر نگر سے متصل ٹائون ایریاء سونیکوٹ،اکبر آباد ،چھلت پائین ،چھلت بالا ،رابٹ بالااوررابٹ پائین سے تعلق رکھنے والے عوام نے محکمہ برقیات کے خلاف شدیدالفاظ میں غم و غصے کا اظہار کیا ۔ عوام کا کہنا تھا کہ حلقے میں دو بجلی گھروں سے مضافات کے مختلف دیہاتوں کو بجلی فراہم کرنے کے باوجود ضلع نگر کے مین کمرشل ایریاء کو اڑھائی مہینے تک بجلی کی فراہمی معطل رکھی اور کمرشل ایریاء کی ہزاروں عوام کو مختلف حیلے بہانوں سے تسلیاں دیں لیکن جب بجلی گھر اور واٹر چینل ٹھیک ہونے کے باوجود ابھی تک بجلی عوام کو فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔ اس بات پر عوام سر تا پا احتجاج کرنے لگی اور مرکزی جامع مسجد سے علمدار چوک تک ریلی نکالی ۔ علمدار چوک چوک چھلت میں دری بچھا کر دھرنا دیا۔جشن مولود کعبہ کی مناسبت سے آر ای علی رہبر سے مذاکرات کئے اور انہیں بجلی آن کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ نماز مغربین کے دوران ٹائون ایریاء کے مختلف علاقوں سے تین تین جبکہ مین کمرشل ایریاء سے پانچ پانچ افراد پر مشتمل ایک مذاکراتی ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور مینڈیٹ دیا گیا کہ بجلی فراہمی میں رکاوٹوں سے متعلق ڈی سی نگر سے بات چیت کی جائے گی اور وقت تعینکر کے مطالبات پیش کئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ہر علاقے میں مساجد و امام بارگاہوں سمیت مختلف اجتماعی مراکز سے یہ اعلان کرایا جائے کہ بجلی استعمال کرنے والے بھاری آلات کا استعمال نہ کیا جائے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت ہڑتال کی کال کا انتظار کیا جائے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا