شگر(نامہ نگار)شگر انتظامیہ ضلع کی حدود میں غیروں کی مداخلت روکیں ۔اور انتظامیہ اپنی رٹ قائم رکھیں ورنہ کڑوس تھنگ سمیت دیگر میدانوں پر چھومک بدمعاشی کیساتھ قابض ہوجائیں گے۔لینڈ ریفارم کمیشن کی فیصلے تک شگر کی حدود میں کسی قسم کی تجاوزات اور تقسیمات غیر قانونی ہے۔شگرانتظامیہ سرفہ رنگا والوں کو روکنے کے بجائے شگر کی حدود میںا ٓکر بدمعاشی کرنے والوں کو روکیں۔سرفہ رنگا کی عوام اپنی خون کے آخری قطرے تک اپنے حقوق کی حفاظت کرینگے۔ان خیالات کا اظہار سرفہ رنگا کی عمائدین اور لوگوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ ان کا کہناتھا کہ کڑوس تھنگ سمیت دیگر میدان اہلیان سرفہ رنگا کی صدیوں سے چراہ گاہ رہا ہے اور یہ ہماری ملکیت ہے۔تاہم چھومک زبردستی ہمیں اپنے زمین سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں اور بدمعاشی کے ذریعے ان میدانوں پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ ان میدانوں پر چیف کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔لہذا چھومک والے توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔تاہم ایک متازعہ فیصلے کی آڑ میں وہ ان میدانوں کو ہتھیانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ہم نے ہمیشہ سے عدالت اور شگر انتظامیہ کا احترام کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔لہذا عدالت اور انتظامیہ اپنی رٹ قائم رکھتے ہوئے چھومک والوں کی غنڈہ گردی سے روکیں۔ورنہ سرفہ رنگا کی عوام بھی ایسے بدمعاشیوں کا جواب دینا جانتے ہیں۔جمعرات کی دن چھومک اور اولڈنگ سکردو کی جانب سے شگر کی حدود میں تقسیمات کیلئے آنے کی اعلان کے بعد سرفہ رنگا کے عوام عورتیں اور بچے اپنے سرزمین پر چھومک کی پیش قدمی روکنے کیلئے دیوار کی طرح کھڑی ہوگئی۔سکول کے بچوں سمیت خواتین اور عوام نعرہ لگاتے ہوئے کڑوس تھنگ کی جانب روانہ ہوئے تاہم تحصیلدار اور ایس ایچ او شگر کی سرفہ رنگا کی عوام سے مزاکرات کے بعد شگر پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔لیکن خواتین بچے اور عوام دھرنا دیکر بیٹھا رہا ۔ اسی دوران اسسٹنٹ کمشنر شگر زین العابدین میرانی اور ڈی ایس پی شگر سید جعفر شاہ نے سرفہ رنگا اور چھومک کے لوگوں سے مذاکرات کئے۔لیکن چھومک کے عوام تقسیمات کی ضد پر اڑے رہے۔تاہم سرفہ رنگا کی عوام اور پولیس کی بھاری نفری دیکھ کر سرفہ رنگا کی جانب جانب پیش قدمی سے باز رہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا