شگر(نامہ نگار)کمشنر بلتستان اور آغا علی رضوی کی مذاکرات کے بائوجود لینڈ ریفارم کمیشن کی فیصلے سے قبل ہی چھومک کے عوام کڑوس تھنگ پر قبضے اور تقسیمات کیلئے میدان میں آ گئے۔جمعرات کی دن عمائدین چھومک اور الڈنگ جسد کی قیادت ممبر کونسل سید عباس رضوی ،شیخ جواد حافظی اور راجہ جعفر خان کررہے تھے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کیساتھ کڑوس تھنگ میں پہنچ گئے اور فیتہ اور رسی کی مدد حدود کی نشاندہی کرتے رہے۔اسسٹنٹ کمشنر شگر زین العابدین میرانی اور ڈی ایس پی شگر سید جعفر شاہ نے شیخ جواد اور دیگر لوگوں سے مذاکرات کرتے ہوئے انہیں لینڈ ریفارم کمیشن کی فیصلے تک کسی قسم کی تجاوزات اور تقسیمات سے منع کیا تاہم لوگوں نے شگر انتظامیہ کو بتایا کہ وہ کسی قسم کی تجاوزات نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ اپنے زمینوں کی حدود بندی کرنے آئے ہیں۔اور وہ کرکے جائیں گے اگر کسی کو اعتراض ہے یا کورٹ کی جانب سے کسی قسم کی حکم امتناعی موجود ہے تو وہ ہاتھ اٹھانے کو تیار ہے ورنہ یہ ہماری ملکیت ہے اور اپنی ملکیت کی نشاندہی سے کوئی ہمیں نہ روکیں۔اس طرح دن بھر کڑوس تھنگ کی چپہ چپہ ناپتے رہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا