کھرمنگ(قاسم قاسمی) گلگت بلتستان کو سیاحوں کی جنت کہتے ہیں لیکن سہولیات کی عدم دستیابی اس صنعت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے جسکا ادارک کرنے والا کوئی نہیں۔ کچھ ایسے ہی مسلے سے ضلع کھرمنگ کے سیاحتی مراکزبھی دوچار ہیں۔ کھرمنگ میں و یسے تو سیاحت کے حوالے سے بیش بہا قدرتی مواقع موجود ہیں لیکن لائن آف کنٹرول کا علاقہ ہونے اور اس ضمن میں وار زون کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے ضلع کھرمنگ کے سیاحت کو بہت ذیادہ نقصان پونچ رہا ہے۔ اس وقت طولتی سے اوپر کا علاقہ وار زون میں شامل ہونے کی وجہ سے ضلع کھرمنگ میں غیر ملکی سیاح کا داخلہ منع ہے اور ملکی سطح کے سیاح کو بھی طولتی سے اوپر جانے نہیں دیتے، حالانکہ ضلع کھرمنگ کے LOC سب پرُامن ہے۔ دوسری طرف پچھلے کئی سالوں سے منٹھوکھا آبشار اور خاموش آبشار سیاحت کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں لیکن ان دونوں مقامات پر سہولیات بلکل نہ ہونے کے برابر ہے اس وجہ سے یہاں سیاحوں کے ساتھ مقامی آبادی کو بھی پریشانیوں کر سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ ان دونوں مقامات حکومت کی طرف سے صفائی کا کوئی مناسب انتظام نہیں جوکہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا ہے، اور نہ ہی متعلقہ تھانے کی طرف سے مناسب سکیورٹی کا کوئی انتظام کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات باہر سے آئے ہوئے اوباش لڑکوں کی شیطانیاں اور حرکتوں نے علاقے کی خواتین کیلئے راہ چلنا مشکل جاتے ہیں جوکہ معاشرتی اقدار کی پامالی ہے۔ منٹھوکھا ندی جہاں سے پورے علاقے کے لوگوں کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے لیکن آبشار کے اردگرد پر باتھ روم اور سوریج کا مناسب انتظام نہ ہونے کے سبب ندی کا پانی مضر صحت بنتی جارہی ہے جو آنے والے وقتوں میں مزید خطرناک صورت حال اختیار کرسکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ سیاحت کی فروغ کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور قدرتی طور پر صاف شفاف پانی کے ندیوں کی بچاو کیلئے عملی اقدمات اُٹھائیں اور ضلع کھرمنگ میں از سرنو وار زون تعین کریں تاکہ ضلع کھرمنگ میں سیاحت کو فروغ ملے جس سے نہ صرف یہاں کے عوام کو فائدہ کو بلکہ حکومت خزانے کو بھی خوب فائدہ پونچ سکتا ہے۔ محکمہ صحت ماحولیات اور سیاحت کے ذمہ داران کو بھی چاہئے کہ ضلع کھرمنگ میں سیاحت کے مسائل اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی آلودگی اور خاص طور پر صاف شاف ندیوں کے پانی جو گٹر کی صورت اختیار کررہا ہے اس حوالے سےمثبت اقدامات اُٹھائیں۔
حکومتی عدم توجہی کا شکار سیاحتی ضلع کھرمنگ کے دو اہم سیاحتی مراکز سہولیات سے خالی مسائل سے لیس۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا