اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) نگر سے منتخب ممبر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی جاوید حسین نے گلگت بلتستان کے سنیئر صحافی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ وزیر حفیظ الرحمن کسی بھی فورم پر گلگت بلتستان کے بجائے کشمیر کا مقدمہ لڑتے ہیں ۔ اُنکا کہنا تھا کشمیری ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی قیمت پر کشمیری لابی کو ناراض نہیں کرسکتے تاکہ اسلام آباد میں اُن کیلئے مسائل پیدا نہ ہو۔ حالیہ عدم اعتماد تحریک میں اچانک خاموشی کے حوالے سے جاوید حسین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہیں اور پارٹی کے اندر سے 9 کے قریب ممبران بغاوت کرچُکے ہیں جسکا حفیظ کو علم بھی ہے لیکن وہ معاملے کو سلجھانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ عدم اعتماد تحریک کیلئے راستہ ہموار کیا جارہا ہے جس کا جل نتیجہ عوام کے سامنے آئے گا۔ اُنکا کہنا تھا کہ اگلا وزیر اعلی دیامر سے ہوگا اور اس سلسلے میں تمام تیاریاں ہوچُکی ہے کیونکہمجھےقانون ساز اسمبلی کے 20 ممبران کی براہ راست حمایت حاصل ہے۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ ہمیں حفیظ الرحمن کی شخصیت سے کوئی انکار نہیں وہ جھوٹ بھی اس انداز میں بولتے ہیں کہ سامنے والے کو سچ گمان ہونے لگتا ہے لیکن اس وقت گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حفیظ الرحمن ہے کیونکہ سرتاج عزیر کمیٹی میں صاف انداز میں رائے دیا تھا کہ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے لیکن حفیظ الرحمن نے کشمیر قیادت کے ساتھ ملکر اُس سے انکار کیا۔ اُنکا یہ بھی کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کونسل ختم کرنے میں حفیظ الرحمن کا اہم کردار ہے اور کشمیر ی وزیر اعظم کے ساتھ ملکر اُس نے یہ سب کام کیا۔
وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن گلگت بلتستان کے بجائے کس کا مقدمہ لڑ رہے ہیں؟ خوفناک انکشاف۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا