اسلام آباد(پ،ر) گلگت بلتستان کے مشہور معروف واٹس ایپ گروپ (جی بی تھنکرز فورم) کے زیر اہتمام گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کی افادیت ،نقاصانات اور بہتری کیلے تدابیر اس موضوع ایک ہفتے کا مکالمہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم عنوان کے اسپیکر تعارف عباس مرکزی جنرل سیکریٹری قراقرم نیشنل مومنٹ اور چیرمین قراقرم لاء کالج گلگت بلتستان اور ڈپٹی سپیکر کے فرائض جناب شاہد ندیم سوشل ایکٹیویسٹ نے دئے۔ ہفتہ روزہ مکالمے میں جی بی تھنکرز فورم کے 255ممبران میں سےچالیس فیصد ممبران نے براہ راست وائس کلپ کے ذریعے اپنے بھر پور خیالات اور آرا سے آگاہ کیا جبکہ 70% ممبران نے وایس کلپ سن کر گروپ میں اور مکالمے میں حصہ لیا اور 30% ممبران نے نہ ہی سنا اور نہ بولا۔ ٹاپک پر بولنے والے ممبران نے گلگت بلتستان کے ستر سالوں سے بنیادی حقوق اور قومی شناخت سے محروم عوام کیلے ایک بہترین سہولت قرار دیا جس میں پیغام کالکھ کر،بول کر اور ویڈیو کال کے زریعے اپنے عزیزوں دوستوں دشتہ دار جو علاقے سے دور ہیں کے ساتھ ملاقات اور حال احوال جاننے کا بہترین زریعہ قرار دیا۔اور گلگت بلتستان جسے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے یکثر نظر انداز کیا تھا کی کمی کو ختم کیا اور نوجوانو کیلے شعور و آگاہی کا اہم ذریعہ ثابت ہو ہے اور عوامی حقوق کیلئے چلنے والی تحریکوں گندم سبسڈی اور غیر قانونی ٹیکسس کے خلاف تحریک کو موبلایز کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔اسی طرح شرکاء نے سوشل میڈیا کے منفی استعمال پر روشنی ڈالتے ہوے کہا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کسی بھی شخصیت،مذہب،یا جزبات کے مجروح کر نے کیلے استعمال نہیںکیا جانا چاہیے۔اور جعلی آئی ڈی اور نمبروں ہر پابندی لگایا جاے جو انتشار کا سبب بنتے، اور شرکاء نے گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کی سہولت تمام علاقوں تک پونچانے کا مطالبہ اگر ایس سی او یہ سہولت فراہم نہیں کر سکتا ہے تودوسرے کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنے کا موقع دیا جائے اور سیاسی و سماجی پارٹیوں کی طرف سے حکام بالا فورسز، گورنر اور وزیر اعلی کو خطوط کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کیلے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کانفرنسزاور ورکشاپس کے ذریعے آگاہی مہم چلائیں اور جی بی تھنکرزفورم کے طرز کے مزید گروپس بنا کر زیادہ سے زیادہ مسایل کی نشاندہی کی جائے اور حکام بالا کو حل کیلئے توجہ دلایا۔
گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کی افادیت ،نقاصانات اور بہتری کیلئے تدابیر کے عنوان سے ایک ہفتے کا مکالمہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا