کھرمنگ ( قاسم قاسمی ) کھرمنگ محاز ایریا کے قریبی گاوں میموش بالا ڈسپینسری کھنڈر میں تبدیل ہو گئے۔ مذکورہ ڈسپینسری بنے بارہ سال کا عرصہ ہو چکی ہے مگر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود عوام کی علاج و معالجے کے لئے استعمال کرنے کے بجائے تالہ لگا کر بند رکھا ہوا ہے محکمہ صیحت کھرمنگ مفلوج ہو کر رہ گئے ہے محکمہ صرف دفاتروں تک محدود ہے
کرگل بارڈر کے قریبی گاوں میموش بالا کے بے چارے عوام کو صیحت کے حوالے سے بلکل نظر انداز کئے جا رہے ہیں یہاں کے عوام دس روپئے کے پراسٹامول کے لئے بھی سینکڑوں کلو میٹر دور سفر کرنے پر مجبور ہے اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ عوامی منتخب نمائندہ اپنے عیاشیوں میں مصروف ہے نمائندہ سمیت متعلقہ محکمہ کو عوامی مسائل سے آگاہ ہونے کے باوجود مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے محاز ایرئے کے قریب ہونے کے ناطے ان کو گھر کی دہلیز پر علاج و معالجے کی سہولیت میسر آنا چاھئے تھا مگر یہاں تو معاملہ بلکل الٹ نظر آتا ہے جو صیحت مرکز بنایا تھا وہ بھی تالہ لگا کر بند رکھا ہوا ہے حکام بالا نوٹس لیں اور مذکورہ ڈسپینسری میں ادویات سمیت عملہ بھی تعین کریں۔
کھرمنگ میموش بالا ڈسپینسری کھنڈرات میں تبدیل اور تالا لگنے سے عوام کو مشکلات
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا