وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں غیر یقینی صورتحال کا سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘ قومی مفاد ذاتی اور ادارہ جاتی مفاد سے بالاتر ہے‘ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے جائیں گے‘ پاکستان اور چین نے ایشیاءمیں جدید دوستی کا ایک خوبصورت تصور قائم کیا‘ پاکستان اور چین بیلٹ اینڈ روڈ تصور کے تحت سی پیک قائم کیا‘ افغانستان کی صورتحال علاقائی روابط کے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جمعرات کو خواجہ محمد آصف نے سی پیک سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک انفراسٹرکچر‘ لینڈ اسکیپ کی ترقی اور توانائی سے متعلق ہے کوئلے سے بجلی بنانے کے کئی منصوبے مئی 2018 تک مکمل کرلئے جائیں گے۔ دسمبر 2017 میں ہزارہ موٹر وے کا آغاز کیا گیا۔ گوادر میں نئے ایئرپورٹ کی تعمیر کے منصوبے کا جلد آغاز کیا جائے گا۔ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت خصوصی اقتصادی زونز ملک بھر میں قائم کئے جائیں گے۔ اقتصادی زونز کے قیام سے بنیادی طور پر سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوگا۔ پاکستان اور چین نے ایشیاءمیں جدید دوستی کا ایک خوبصورت تصور قائم کیا۔ پاکستان اور چین بیلٹ اینڈ روڈ تصور کے تحت سی پیک کی تخلیق کررہے ہیں۔ ہمیں موجودہ دور کی بھول بھلیوں سے انتہائی احتیاط سے گزرنا ہے۔ افغانستان کی صورتحال علاقائی روابط کے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ملک میں غیر یقینی صورتحال کا سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہم اس غیر یقینی صورتحال سے کامیابی سے نکل جائیں گے۔ اسلام آباد میں دھرنے اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہم کامیاب ہوئے قومی مفاد ذاتی اور ادارہ جاتی مفاد سے بالاتر ہے دیکھا گیا ہے کہا داروں نے ادارہ جاتی مفادات کو قومی مفاد کا نام دے رکھا ہے۔
ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال کا سی پیک پر کیا اثر پڑ سکتا،وزیر خارجہ نے واضح کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا