گلگت (ڈسٹرک رپورٹر)گزشتہ دہائیوں سے گلگت بلتستان میں لاقانویت اور افسر شاہی کی وجہ سے سرکاری ادارے ایک طرح سے کرپشن کے اڈے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہاں سفارش کے بغیر کوئی بھی کام نکلوانا اور مسائل کا حل عام آدمی کیلئے ایک امتحان سے کم نہیں۔ لیکن جب سے قومی احتساب بیورو نے گلگت بلتستان میں عملی طور پر کام کرنا شروع کیا ہے سرکاری محکموں میں اعلیِ عہدوں پر بیٹھ کر عوامی حقوق کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹنے والوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہے۔ اسلام آباد سے حکم ملتے ہی قومی احتساب بیورو سب آفس گلگت نے محکمہ زراعت گلگت بلتستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر نظام الدین سمیت محکمے کا کیشر شاہ زرین اور ڈی ڈی او سید احمد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اُن پر دیامر ڈویژن محکمہ زراعت میں دو کروڑ کے غبن کا الزام اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے جعلی اشتہاری بلات و جعلی دستاویزات کی مد د سے محکمہ زراعت چلاس میں کرپشن کرنے کےسنگین الزامات ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام سرکاری محکموں شفاف طریقے سے کرپٹ عناصر کا صفایا انتہائی ضروری ہے تاکہ گلگت بلتستان جیسے پسماندہ خطے کے عوام کے پیسوں نے مال جائداد بنانے والوں کو کڑی سزا مل سکے۔ ہمارے نمائندے میں گلگت شہر کے کچھ مقامات پر کچھ افراد سے اس حوالے سے رائے جاننے کی کوشش کیا تو عوام نے اس اقدام کو خوب سراہا اور اگلے مرحلے میں محکمہ ایک جی آر ڈی اور پولیس میں موجود کالی بھیڑیوں کے پر ہاتھ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ ایل جی آر ڈی میں دیہی سطح پر ترقی کیلئے منظور ہونے والے ذیادہ تر فنڈز آفسران کی ملی بھگت مسلسل ہڑپ کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ کئی ہفتوں نے عوام نے بھی اس محکمے کے خلاف احتجاج کیا ہوا ہے۔لہذا اس ادارے کے اعلیِ افسران کے خلاف کاروائی ضروری ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا