سکردو (پ۔ر) پیپلز پارٹی ضلع سکردو کے ترجمان و انچارج میڈیا سیل بلتستان ڈویژن طالب حسین نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کا معیار کسی سرکاری سکول سے بھی بدتر ہے۔گلگت بلتستان کے نوجوان کرپٹ اور منافق سیاستدانوں کو مسترد کریں ورنہ ہم سب قومی مجرم ٹھہریں گے۔گلگت بلتستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے ایسے میں باشعور نوجوانوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔مقدس ایوان میں منافقت کے علاوه کچھ نہیں ہو رہا۔اراکین اسمبلی ذاتی مفادات کی کشمکش میں ہیں۔جذباتی بھڑکیں مارنے والوں کو وزیر اعلیٰ کے سامنے سانپ سونگھ جاتا ہے۔گلگت بلتستان کو سیاستدانوں کی نہیں رہنماؤں کو ضرورت ہے۔گلگت بلتستان کے عوام پیپلزپارٹی کی بہادر اور دور اندیش قیادت کا ساتھ دیں تاکہ ستر سالہ محرومیوں اور زیادتیوں کا ازالہ ہو سکے۔موجودہ اسمبلی کو قانون ساز اسمبلی کے بجائے کرپشن ساز اسمبلی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔وفاقی حکومت کی مدت کے خاتمے کے دن قریب آتے ہی حکومتی اراکین نے اسمبلی جانا چھوڑ دیا ہے جو ثابت کرتا ہے کی وہ محض ذاتی مفادات کے لئے اسمبلی جاتے تھے۔صوبائی حکومت کے وزراء اور اراکین اسمبلی کے دوچہرے ہیں وزیر اعلیٰ کے سامنے کچھ اور عوام کے سامنے کچھ اور۔نواز لیگی وزراء اور اراکین اسمبلی نجی محفلوں میں وزیر اعلیٰ کو برا بھلا کہنے کے بجائے اسمبلی اور میڈیا میں کھل کر عوام دشمن اقدامات کی مذمت کریں عوام انکی دوغلی پالیسی کے جھانسے میں ہرگز نہیں آئیں گے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا