چلاس(بیورورپورٹ)محکمہ تعلیم دیامر کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ضلع دیامر کے دور دراز علاقوں میں قائم پرائمری اور مڈل سکولوں میں آساتذہ کی عدم حاضری ،تعلیمی سہولیات کے فقدان اور سکولوں کی ناقص بلڈنگز کی وجہ سے طلبہ ایکسویں صدی کے اس جدید دور میں بھی سخت کمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔داریل تانگیر ڈوڈیشال کھنبری ،نیاٹ ،کھنر اور تھور تھورلی کے اند رسکولوں کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے مگر محکمہ ایجوکیشن کے زمہ داران انکھوں پر کالی پٹیاں باندھ کر خواب خرگوش کے نیند سوئے ہیں مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار دیامر کے عوامی و سماجی حلقوں اور ایس ڈی ای ایس کے رہنماوں جابر ،امتیاز ،نوید و دیگر نے چلاس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی ڈاریکٹر ایجوکیشن آتے ہی سکولوں کے اندر آساتذہ کی کمی دور کرنے کی بجائے بعض افراد کے ہاتھوں یرغمال بن گئے ہیں اور ضلع بھر میں سکولوں کی حالت بہتر بنانے میں یکسر ناکام نظر آرہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دیامر میں سینکڑوں آساتذہ موجود ہیں لیکن دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی سے یکسر آساتذہ غیر حاضر رہتے ہیں ،ضلع بھر میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا رٹ کمزور ہے ۔انہوں نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوٹس لیکر دیامر میں تعلیم کی بگڑتی ہوئی دگرگوں صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے زاتی طور پر کردار ادا کریں ،دیامر میں موجود زمہ داران سے عوام اور والدین مایوس ہوچکے ہیں ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا