سکردو(نامہ نگار) گلگت بلتستان کے ممتاز سیاسی رہنا اور قانون دان صدر سپریم اپلیٹ بار کورٹ احسان علی ایڈوکیٹ کو جھوٹے اور من گھرٹ ایف آئی آر کا بہانہ بنا کر پابند سلاسل کے خلاف ضلع سکردو میں بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن، بی وائی ایف۔آئی ایس او بلتستان۔بلتستان یوتھ ایلائنیس، جی بی یوتھ الائینس کی جانب سے حسینی چوک سکردو سے یادگار شہدا تک ریلی نکالی اور احتجاج کیا۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اوچھے ہتھگنڈوں سے نکل کر حقیقی معنوں میں فیصلے کرنا چاہیے۔ہم پاکستان کے آئینی شہری نہیں ہیں ۔ گلگت بلتستان میں ظلم ،جبر اقوام متحدہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے ۔گرفتاریاں ،شیڈول 4 مسلے کا حل نہیں ۔آئے روز گرفتاریوں ظلم،جبر سے گلگت بلتستان بھی بلوچستان جیسی صورت حال اختیارکرے گا۔پاکستان کو اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے ۔ مقررین کا کہنا تھا احسان ایڈوکیٹ کو توہین مذہب کے تحت گرفتاری دراصل ایک بہانہ ہے حکومت دراصل گلگت بلتستان کے محکوم اور مظلوم قوم کیلئے آواز اُٹھانے والوں کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ احسان علی ایڈوکیٹ واحد شخص ہے جو سپریم کورٹ سے لیکر گلگت بلتستان کے عدالتوں سمیت ریاستی جبر کے تحت قید میں موجود حقوق کیلئے آواز اُٹھانے والوں انصاف دلانے میں سب سے ذیادہ متحرک ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت گلگت بلتستان کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقوق نہیں دلاسکتے تو کم از کم متنازعہ خطے کو عوام کو جینے کا حق دیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا