گلگت ( ڈسٹرک رپورٹر) بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ نون کے حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد تبدیلی کی ہواوں نے گلگت بلتستان کا رُخ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں بھی مسلم لیگ نون کی حکومت کے خلاف کچھ ناراض ممبران نے اپوزیشن کو عدم اعتماد کیلئے اُکسانا شروع کیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے کچھ ناراض اراکین نے اسمبلی کے فلور سے باہر حفیظ الرحمن کے خلاف مختلف ضلعوں میں پارٹی کے ناراض لوگوں سے رابطے بڑھا دیئے ہیں دوسری طرف وزیر اعلی کے منطور نظر وزراء اور مشیروں نے بھی وزیر اعلی بچاو ڈپلومیسی کے تحت ناراض اراکین کو منانے کیلئے حکمت عملی تیار کررہا ہے۔
گلگت بلتستان کے سیاسی امور کے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگلے کچھ مہینوں بعد گلگت بلتستان کی حکومت کیلئے ویسے بھی سیاسی مسائل کا سامنا رہے گا اور اگر وفاق کے ساتھ گلگت بلتستان میں بھی الیکشن کرانے کی خبروں پر عمل درآمد ہوجاتے ہیں تو حفیظ الرحمن کیلئے گلگت بلتستان میں حکومت کرنے کا پہلا اور آخری چانس ہے دوسری طرف عوام میں حالیہ ٹیکس مخالف تحریک میں عوام دشمن پالیسوں کی وجہ سے شدید غم غصہ پایا جاتا ہے جسکا اظہار عوام نے اگلے الیکشن میں کرنا ہے۔
بلوچستان کے بعد گلگت بلتستان کے ناراض وزراء میں بھی ہمت آگئی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا