اسلام آباد( نیوز ڈیسک) گزشتہ ہفتے وزیر اعظم کی صدارت میں گلگت بلتستان کے حوالے سے سرتاج عزیز کمیٹی کے حوالے سے میٹنگ میں وزیر اعظم آذاد کشمیر کو بھی مدعو کیا تھا۔ اُس میں میٹنگ میں گلگت بلتستان کے عوامی مطالبات باوجود اس خطے کو صدارت حکم نامے کی نظام سے نکال کر ایک نئے نظام کے تحت مزید سیاسی حقوق دینے کیلئے برسٹر ظفراللہ خان کی سربراہی میں ایک نئی کمیٹی تشکیل دی ہے جو گلگت بلتستان کیلئے آزاد کشمیر ایکٹ 1974کی طرح گلگت بلتستان کے نظام کو پارلیمنٹ میں ایکٹ 2018کے تحت آئینی تحفظ دیا جائیگا جس کے تحت گلگت بلتستان دیگر صوبوں کے برابر وفاق سے حقوق ملنے کے امکانات ہیں۔گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اورصوبائی وزراء کو وہ تمام اختیارات حاصل ہونگے جو کسی بھی صوبے کے وزیر اعلیٰ اورصوبائی وزراء کو حاصل ہیں۔اجلاس میں موجود وزیراعظم آذاد کشمیر نے نہ صرف اس اقدام کی بھرپور حمایت کی ہے بلکہ وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان طرز کا نظام آزاد کشمیر کو بھی دیا جائے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا