گلگت ( آر این این) حکومت گلگت بلتستان نے ٹیکس کے خلاف مظاہروں مرکزی کردار ادا کرنے والوں کی نگرانی شروع کردی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر قانون حکومت گلگت بلتستان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ شیڈول فور میں ڈالنے کا مطلب ان کی آزادی کو ختم کرنا یا انہیں نظر بند کرنا ہرگز نہیں بلکہ صرف ان کی نقل حرکت پر نظر رکھنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاایسے افراد جو ماضی میں کسی کالعدم تنظیم کے رکن یا رہنما رہے ہوں ان کی نقل و حمل پر نظر رکھی جاتی ہے۔صوبائی وزیر قانون نے شیڈول فور میں ڈالنے والے افراد کے نام بتانے سے انکار کیا ۔ وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے تسلیم کیا کہ ٹیکس خاتمے کےلئے ہونے والا حالیہ مظاہرہ، گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ صوبائی وزیر قانوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کوغیر ملکی فنڈنگ ملنے کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لہذا اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ وزیر قانون اورنگریب خان ایڈووکیٹ نے نیشنل ایکشن پلان سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں اس پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل در آمد ہونے کی وجہ سے صوبے میں امن و امان بحال ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا سہرا علماء کرام کے ساتھ وہاں کے عوام کو جاتا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا