سکردو(بیورو رپورٹ) محکمہ تعلیم میں مافیا پھر سے سر گرم ہونے کا انکشاف ۔ زرائع کے مطابق گلگت بلتستان حکومت نے مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کے سلسلہ میں کئی اقدامات کئے ہیں پچھلے سال مفت کتابیں مہیا کی گئی اور سیکرٹری تعلیم نے تدریسی معیار کو جانچنے کے لیے مختلف زون بنایا جس میں رزلٹ خراب لانے والے اساتذہ کی ترقی روکنے اور انکریمنٹ بند کرنے کی سزائیں شامل ہیں ان سزاوں سے بچنے کیلئے ڈی ڈی اوز/ہیڈ ماسٹروں نے بہت سے بچوں کا امتحانی فارم بحثیت پرائیویٹ امیدوار کے طور پر کردیا گیا ہے جبکہ باقی بچوں سے ونٹر کیمپ کے نام پر مختلف شرح مبلغ اٹھ سو سے ایک ہزار روپے کے درمیان فیس وصول کیا جارہا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ دوردراز کے علاقوں سے بچوں کو سکردو سنٹر کھول کر جبری طور پر یہاں لایا گیا ہے اور ونٹر کیمپ میں شامل نہ ہونے والے بچوں سے بھی زبردستی فیس وصول کر نے کے بھی اطلاعات ہیں جوکہ اس مہنگائی کے طوفان میں غریب والدین کے اوپر زیادتی ہے ساتھ ہی جی بی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے بلکل برعکس ہے والدین کا مزید کہنا ہے کہ ارباب اختیار سے ہماری اپیل ہے کہ اس سلسلہ میں فوری تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا