سکردو( نامہ نگار) گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں ٹیکس کے خلاف عوامی احتجاج کو فرقہ وارانہ خاص طور اہلیان بلتستان کو مسلک کی بنیاد پر احتجاج کرنے کے الزام پر آج نماز جمعہ کے بعد یادگار شہداء سکردو پر ہزاروں افراد نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ،اسپیکر فدا محمد ناشاد،سنئیر وزیر حاجی اکبر تابان سے اظہار بیزاری کرتے ہوئے اُن کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے اور وزیر اعلیٰ کے الزامات پر بلتستان سے تعلق رکھنے والے اراکین قانون ساز اسمبلی کی مکمل خاموشی عوام نے اُنہیں بھی بلتستان کا مجرم قرار دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین آغا علی رضوی نے کہا کہ مسلک اہل سُنت ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے دل میں بستے ہیں یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن حفیظ الرحمن نے بلتستان کے لاکھوں عوام کو راء کا ایجنٹ اور مسلکی احتجاج قرار دیکر اس بات کو واضح کردیا ہے کہ گلگت بلتستان میں فساد کی جڑ ادراصل یہی لوگ ہیں جنکا کسی مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا