سکردو(پ۔ر) پیپلز پارٹی سب ڈویژن سکردو کے جنرل سکریٹری طالب حسین نے کہا ہے کہ غیر آئینی ٹیکسوں کے معاملے پر صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی سے نواز لیگ کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی جمہوری حکومت نہیں بلکہ مارشل لاء نافذ ہے۔شدید ترین عوامی احتجاج کے باوجود حکومتی بے حسی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایسی ناکام اور بے حس حکومت کبھی نہیں آئی۔صوبائی حکومت عوام کی شرافت کو بزدلی اور صبر کو بے غیرتی نہ سمجھے۔اگر تمام اضلاع کے لانگ مارچ گلگت پہنچنے سے قبل ٹیکسوں کا مسئلہ حل نہ ہوا تو صوبائی حکومت ہٹاو گلگت بلتستان بچاؤ تحریک کا آغاز ہوسکتا ہے اور اسکے بعد وزیر اعلی اور وزراء عوامی سیلاب کی تاب نہ لاسکیں گے اور انہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔گلگت بلتستان کے عوام صوبائی حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا حکومت صرف تنخواہیں، مراعات،پروٹوکول اور ٹھیکے لینے کا نام ہے۔کیا عوام نے وزیر اعلی اور وزراء کو ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے اسمبلی میں بھیجا تھا۔موجودہ حکومت دراصل گلگت بلتستان کی بدقسمتی اور عوام پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔سکردو کے احتجاجی مظاہرے میں نواز لیگ کے سینکڑوں ووٹرز نے موجودہ حکومت کو ووٹ دینے پر قوم سے معافی مانگی ہے جو کہ موجودہ حکومت کے منہ پر عبرت کا طمانچہ ہے۔پیپلز پارٹی بلتستان کا 85 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کل کے لانگ مارچ میں گلگت جانے کے لئے تیار ہے۔پیپلز پارٹی عوامی مفادات کے تحفظ کے لئے صف اول میں کھڑی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا