چلاس( نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان میں جاری عوامی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے سوشل میڈیا پر مسلسل منفی پروگنڈہ کیا جارہا ہے عوام کو ایک بار پھر مسلکی بنیاد پر تقسیم کرنے کی حکومتی سازشیں عروج پر ہے ۔اسی سلسلے میں علمائے دیامر اور دیامر کے عوام کا گلگت بلتستان میں جاری احتجاج اور مظاہروں کو سی پیک کے خلاف سازش قرار دیکر اس قسم کے احتجاج اور مظاہروں سے دور رہنے کیلئے سوشل میڈیا پر دیامر کے کئی اہم علمائے کرام سے منسوب کرکے غلط خبریں وائرل کیا جارہا ہے۔ اس پروپگنڈے کے خلاف ترجمان دیامر علماء اور گرینڈ جرگہ مولانا دین محمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اُن تمام منفی پروپگنڈوں کو مستردکرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو پیغام دیا ہے کہ دیگر تمام اضلاع کی طرح ضلع دیامر کے عوام ،تاجر برادری اور خصوصا علمائے کرام حقوق کی جدوجہد میں عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اس وقت گلگت شہر میں باقاعدہ اُس تحریک کا حصہ ہے اور انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اُنہوں نے دیامر کے علماء سے منسوب تمام منفی خبروں کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فقط دیامر کے عوام کو بدنام کرنے کیلئے گورنمنٹ کی چاپلوسی والے افراد کی سازش ہے۔ مجھ سمیت دیامر کے ممتاز عالم دین مولانا مزمل شاہ اور مولانا عبد المحیط نے ان تمام افواہوں کو قطعی طور پر مستردکرتے ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا