گلگت( پی ٹی نیوز) ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کے تیسرے مرحلے کا اعلان ہوا تو حکومتی ایوانوں میں زلزلے کے جھٹکے لگنا شروع ہوگئے اور تاجروں کو خریدنے کیلئے حکومت نے قومی خزانے کو کھول دیا ہے۔ شہر کے بڑ ے ہو ٹلز میں اپنے بعض عزیز اقارب تاجروں کی پریس کانفرنس کیلئے محکمہ اطلاعات کے آفیسروں کی دوڑیں لگوادیا۔ محکمہ اطلاعات کے آفیسروں نے گمنام تاجروں کی پریس کانفرنس کیلئے بڑے ہوٹل میں ڈنر کا اہتمام سرکاری خزانے سے کیا لیکن رپورٹرز نے پریس کانفرنس پریس کلب میں کرنے کیلئے کہا جس پر اس گروپ کو پریس کلب آنا پڑا۔ جہاں ایکشن کمیٹی کے رہنماوں اور انجمن تاجران کے عہدیداروں پر وزیر اعلیٰ کے محلے کے چند افراد نے الزامات لگائے۔ تاہم وزیراعلی ہاوس سے ہدایات لیکر آنے والے اس گمنام تاجروں نے پریس کانفرنس ختم کی تو ان تاجروں کیلئے محکمہ اطلاعات کے آفیسرز نے شہر کے معروف ہوٹل میں ڈنر کا اہتمام کیا تھا اور مہمان نوازی کیلئے نوکروں کیطرح کھڑے تھے۔ منگل کی رات کو محکمہ اطلاعات کے آفیسرز کو یہ ذمہ داری وزیراعلیٰ نے دیدی تھی کہ کسی بھی اخبار میں عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی خبریں شائع نہ کرانے کیلئے اپنے تمام سرکاری وسائل استعمال میں لائے اور چند گھنٹوں میں ن لیگ کے چند افراد پر مشتمل تاجروں کے گروپ کے بیانات کو شہہ سرخیاں بنانے کیلئے کام کیا جائے۔ اور کچھ پرنٹ میڈیا بھی ہمیشہ کی بک گئے اور آج کی شہہ سرخیوں میں وزیر اعلیٰ کے سازش کار افراد جو صرف چند افراد اور کشروٹ تک محدود ہیں اُنہیں لیڈاسٹوری کا حصہ بنایا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا