گلگت (پ ر) نوجوان رہنماء و ماہر قانون ریاضت علی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ چھپروٹ نگر کے طلبہ و طالبات موجودہ دور میں بھی تین گھنٹے سفر کر کے سکولز اور کالجزجانا سٹوڈنٹس کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔علاقے کے منتخب ممبر الیکشن کے ٹائم ٹرانسپورٹ کا اعلان کر کے الیکشن کے بعد منظر سے غائب ہوتے ہیں جو کہ افسوس المیہ ہے۔ چھپروٹ ایک تعلیم یافتہ خطہء ہے جہاں سے کئی بیشتر افرادبیوروکریٹس، ڈاکٹرز،فلاسفر، فوجی افسران اور کئی اعلیٰ عہدوں پہ فائز ہیں۔گلگت کے کم آبادی علاقہ ہونے کے باوجود بھی زیادہ تر لوگ اپنا زندگی پاک فوج میں گزارتے ہیں۔ شندور پولو مقابلہ ہو یا شعراء علاقے کے لوگ اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔اس لیے ان لوگوں کو آگے لانے میں گورنمنٹ خصوصی دلچسپی لے کے علاقے کی خوشحالی اور تعلیم کو عام کر دے۔انہوں نے ڈی سی نگر , ڈی ڈی ای نگر اور جاوید ممبر اسمبلی مطالبہ کیا کہ چھپروٹ کے سٹوڈنٹس کے مسئلوں کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا