کھرمنگ( نامہ نگار خصوصی) ضلع کھرمنگ کے سیاحتی مقام موضع منٹھوکھا کے مقام پر 1.5 میگا واٹ بجلی گھر کے متاثرین پچھلے چار سالوں سے معاوضے سے محروم ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق منٹھوکھا گیمل میں بجلی گھر کی تعمیر کیلئے منٹھوکھا کے عوام کی کئی سو کنال بندوبستی زیر کاشت اراضی بمعہ پھل دار اور غیر پھل درختیں 2014میں بشرط بروقت معاوضہ استعمال کئے لیکن چار سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد عوامی نقصانات کی ازالے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔متاثرین کی جانب سے متعدد بار ڈی سی کھرمنگ کو اس حوالے درخواست دیئے گئے لیکن کئی ڈپٹی کمشنر تبدیل ہوگئے مگر متاثرین کی شنوائی کرنے والا کوئی نہیں۔متاثرین کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سرکار عوامی املاک کو ہتیانے کے موڈ میں نظر آتا ہے ایسا کیا تو شاہراہ کھرمنگ پر شدید احتجاج کیا جائے گا۔ متاثرین بجلی گھر نے اس ضمن میں کئی بار مقامی اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت تک اپنی فریاد پونچانے کی کوشش کی لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس حوالے سے کچھ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ متاثرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ زمین حاصل کرتے وقت سرکاری ریٹ ایک لاکھ پچاس ہزار فی کنال تھے جو اب بڑھ کر تین لاکھ ہوچُکی ہے لہذا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے سرکاری نرخ نامے کے ساتھ پچھلے چار سال سے محروم فصلات کی قیمت کے ساتھ جلدازجلد متاثرین کو معاوضے کی ادایئگی یقینی بنائیں بصورت دیگر احتجاج اور عدالت کا دروازہ کھٹکٹانے پر مجبور ہونگے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا