چلاس(بیورورپورٹ)ترجمان ڈیم کمیٹی نجیب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وفاق گلگت بلتستان کو متنازعہ قرار دیکر آئینی حقوق دیتا نہیں ہے جبکہ اُوپر سے متنازعہ علاقے کے غریب عوام پر ٹیکسز نافظ کرنے میں دیر نہیں لگاتے ہیں ۔آئینی حقوق دیئے بغیر متنازعہ علاقے میں ہر قسم کے ٹیکسز کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کا اہم فریق ہے اس علاقے میں سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ وفاق پرست پارٹیوں نے 70سالوں سے گلگت بلتستان کی عوام کو بے وقوف بنایا ہوا ہے اور اپنے مفادات کیلئے یہاں کے وسائل پر قابض ہیں ،لیکن اب ایسا نہیں چلے گا ،یہاں کی عوام اب باشعور ہوچکی ہے وہ اپنے حقوق کا دفاع کرنا جانتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق فراہم نہیں کرسکتی ہے تو اس علاقے کو کشمیر طرز کا سیٹ اپ دے کریہاں کی عوام کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی منتخب سیاسی قیادت اپنے زاتی مفادات کیلئے یہاں کے اجتماعی مفادات کا سودا کررہے ہیں جس کی وجہ سے آج یہاں کی عوام در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام ان مفاد پرست ممبران سے خیر ی کوئی توقع نہ رکھیں اور اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ کیلئے خود اُٹھ کھڑے ہوجائیں ۔
آئینی حقوق کے بغیر متنازعہ علاقے میں ہر قسم کے ٹیکسز کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں ، گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کا اہم فریق ہے یہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے اور اس علاقے کو کشمیر طرز کا سیٹ اپ دے کریہاں کی عوام کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے ۔ ترجمان ڈیم کمیٹی چلاس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا