سکردو( نامہ نگار) سدپارہ میں خطرناک سیلابی ریلے کے بعد گلتری سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کےپانچ بدقسمت افراد لاپتہ۔ 24 گھنٹے گزرگئے لیکن ریسکو ٹیم لاپتہ افراد کو تلاش کرنے میں ناکام، عوام میں شدید غم و غصے کی لہر۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے امدادی کام کے بجائے متاثرہ علاقوں میں صرف پولیس کی نفری بڑھایا جاریا ہے جنکے پاس ریسکو کیلئے مشینری تو دور کی بات، ربڑ کے دستانے تک موجود نہیں۔ سول سوسائیٹی بلتستان،بلتستان اسٹودنٹس فیدڑیشن اور دیگر سماجی کارکنان دن رات متاثرین کی بحالی کیلئے مصروف لیکن ایکوپمنٹ نہ ہونے کے سبب شدید پریشانیوں کا سامنا۔ دوسری طرف کلعدم جاعت الدعوۃ نے بھی متاثرین بلتستان کی امداد کیلئے بیڑہ اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا