گلگت ( سوشل نیوز) قانون ساز اسمبلی میں نو منتخب اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع نے سوشل نیٹ ورک فیس بُک پر جاری کئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے حالات نازک ترین ہیں یہاں بات اب سول نافرمانی کی تحریک تک پہنچ گئی ہے۔ 23 نومبر تک حکومت نے ٹیکسزواپس نہ کئے تو24نومبرسے سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی ہم ممکنہ سول نافرمانی تحریک کابھرپورساتھ دیں گے اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک ٹیکسز کے خاتمے کانوٹیفکیشن جاری نہیں کیاجاتا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان آئینی طورپرپاکستان کا حصہ نہیں ہے تویہاں کس قانون اورآئین کے تحت ٹیکسزنافذکئے جارہے ہیں۔ٹیکسز کے فیصلے کو23نومبرتک ہرصورت میں واپس لیناہوگا ورنہ24نومبرسے سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوگی جو کسی بھی صورت میں علاقے کے لئے بڑاخطرناک ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کوجوتے پڑیں گے عوام اب مزید ظلم وزیادتی برداشت نہیں کریں گے ہم عوام کے نمائندے ہیں۔وزیراعلیٰ کی کابینہ کاآدمی نہیں ہوں میں ہرجگہ عوامی مفادات کی بات کروں گا۔کبھی عوام کے حقوق پرکسی کو ڈاکہ مارنے نہیں دوں گا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا