راولپنڈی (زاہد حلیم)گلگت بلتستان لائرز فورم کا راولپنڈی میں اجلاس ہوا جس میں عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان سٹوڈینس فیڈریشن گلگت بلتستان سٹوڈینس مومنٹ اور دیگر طلبا وفد کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان مولانا سلطان رئیس نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حقوق کے معاملے کام شروع ہو چکا ہے اور تحریک بھی چل رہی ہے اب وکلا برادری بھی اس میں شامل ہو چکی ہے گلگت بلتستان سے باہر رہنے والے جتنے بھی دانش مند لوگ ہونگے ان سب کو اس جلد اس تحریک کا حصہ بنائیں گے اور ایک قوم بن کر اپنی آئینی تشخص کیلئے کوشش کریں گے انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس نافذ ہو اور گندم کی سبسڈی بھی ختم کیا جائے۔ گلگت بلتستان میں ٹیکس کا نفاذ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے جس کے خلاف پورے علاقے میں ہڑتال کی کال دی ہے جس کیلئے ہمیں انجمن تاجران گلگت بلتستان کی حمایت حاصل ہے پٹرولیم ایسوسی ایشن بھی اس احتجاجی تحریک کا حصہ تھی لیکن انہوں نے حکومتی دباؤ کی وجہ سے مکر گئے اور ہڑتال کی کال واپس لے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی حکومتی کو ایوانوں میں پریشر گروپ کی حیثیت حاصل ہے گلگت بلتستان کی حکومت اب لوگوں کو ہڑتال سے روکنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ جی بی سے ٹیکسسز کا خاتمہ کیا گیا ہے جس کی سمری جلد ملنے والا ہے یہ ایک پرانی ٹوپی ڈرامہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی حکومت کی اچھی کارکردگی اور اقدامات کو سراہتی ہے لیکن جب بات مفاد عامہ کے خلاف ہو تو کھل کے مخالفت بھی کرتی ہے۔ اجلاس سے گلگت بلتستان لائرز فورم کے صدر ایڈووکیٹ احسان اللہ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں نافذ ٹیکس غیر قانونی ہے ٹیکس کا مخالفت کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ گلگت پاکستان کی نظر میں ایک متنازعہ اور غیر آئینی ہے۔ حکومت کو اگر ٹیکس لگانا ہو تو پہلے ہمیں بھی دوسرے صوبوں کی طرح حقوق دینا ہوگا بین الاقوامی قانون کے مطابق بغیر شناخت کے کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا لہٰذا اس کی مخالفت کرنا ہمارا اخلاقی اور آئینی حق ہے۔ ٹیکس کاایشو آئینی ایشو سے منسلک ہے۔ ستر سال سے اس خطے کو بیوروکریٹس سسٹم میں رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام سماجی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کو ایک نقطے پر آکر اس خطے کی حقوق کیلئے آواز بلند کرنا ہوگا۔ ہمارے لئے آئینی مسئلے کے حل کے بغیر سی پیک میں حصہ ملنا مشکل ہو جائے گا ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی وکلا برادری گلگت کے ہرمعاملے پر اس کے پسے ہوئے عوام کے ساتھ ہے ۔ اجلاس کے آخر میں شرکائے اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کی حقوق کی تحفظ کیلئے ہر مکتبہ فکر ہر سیاسی رہنما کو اس بات کی طرف قائل کریں گے کہ وہ گلگت بلتستان کی آئینی تشخص اور بنیادی حقوق کے معاملے میں اپنا کردار ادا کریں ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا