چلاس (نمائندہ خصوصی )معروف عالم دین مولانا سجاء الحق نے کہا کہ مولوی سرورشاہ،شاہ بیگ اور گلبر سانحہ 88 کے غازی ہیں سب سے بڑے فرقہ واریت کو ہوا دے کر معصوم لوگوں کی جانیں لینے والے اب پھر گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔اپوزیشن لیڈر کو بچانے کیلئے فرقہ واریت کا کارڈ استعمال کرنے والے جمعیت علماء اسلام کے نام نہاد لوگ اب اس خطے کے امن کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 13 نومبر کو دیامر میں کوئی احتجاج نہیں ہوگا،ٹیکس کا ایشو حل ہوچکا ہے،جمعیت کے بعض عناصر حکومت پر دباو ڈالنے کیلئے حالات خراب کررہے ہیں۔دیامر کے لوگ کسی قسم کی احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ 88 کے غازی سپیکر پر فرقہ واریت کا الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکیں
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا