کھرمنگ(پ،ر) تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور گلگت بلتستان میں شرح خواندگی پاکستان بھر سے کہیں ذیادہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے بہت سے ایسے علاقوں میں آج بھی غریب بچوں کو علم حاصل کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے نظام تعلیم کو بہتر کرنے کا دعوی اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ معیار تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے جس تیزی سے کام کرنے کی ضرورت تھی وہ نظر نہیں آرہا۔وزیر تعلیم ویسے تو خود تعلیم یافتہ اور علم دوست انسان ہے لیکن گلگت بلتستان میں جہاں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے قبرستان کا سماں ہے وہیں تعلیمی نظام میں بھی بہت ساری خامیاں ہیں جسے حل کرنا ایمرجنسی نافذ کئے بغیر ممکن نہیں۔ سکردو شہر سے صرف 65 کلومیٹر کی دوری پر موجود گاوں ہلال آباد میں مڈل سکول کی عمارت تو موجود ہے لیکن یہاں پڑھنے والے بچے آج بھی کرسی اور ٹاٹ(بچھونا ) جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اہل علاقہ کے مطابق محکمہ تعلیم کھرمنگ کو اس حوالے سے بار بار یاد دہانی کے باوجود اساتذہ کی کمی اور طلباء طالبات کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
حکومت کو چاہئے کہ اخباری بیانات کی دنیا سے نکل گلگت بلتستان سے تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے عملی اقدام کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا