کھرمنگ(پ،ر) ضلع کھرمنگ میں اس وقت معاشرتی عدم برداشت عروج پر ہے،مختلف پارٹیوں کے کارکنان لسانی اور علاقائی بنیادوں پر سوشل ایشوز کو لیکر ایک دوسرے کیلئے محاذ کھولے نظر آتا ہے۔ سیاسی بحث کے دوران اکثر اوقات ذاتیات اور ایک دوسرے سے دشمنی مولنا معمول بن چکی ہے جو کہ ترقی پذیر معاشرے کیلئے بدشگونی کی علامت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہر کوئی خود کو اچھا سمجھتے ہیں جو کہ علاقائی مفاد کے بنیاد پر نہیں بلکہ پارٹی وابستگیوں کی وجہ سے ہے۔ حکمران پارٹی کے کارکنان اس حوالے سے کچھ ذیادہ ہی معاشرے پر کنٹرول کرنے کے درپے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان عناصر کو ہر بات علاقائی امن کیلئے خطرہ لگتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ دنوں پیش آیا جب مسلم لیگ نون کے کسی مقامی عہدے دار نے سیاسی تنقید کو ضلع کھرمنگ کی امن کیلئے خطرہ قرار دیکر پارٹی عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مقامی سوشل ایکٹوسٹ کے سوشل میڈیا پر سیاسی ایکٹیوٹیز کو علاقائی امن کیلئے خطرہ قرار دیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس مسلم لیگ نون کے رہنما کی حیثیت سے باقاعدہ درخواست جمع کیا ہے۔ اس درخواست کی بنیاد پر جب حقائق جانچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ایک نوجوان سوشل ایکٹوسٹ نے حکمران جماعت کے خامیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے ایکسپوز کرنےکی کوشش کی تھی جو مقامی لیگی رہنماوں برداشت نہیں ہوئے اور لوکل عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنے اور عوام سے اظہار رائے کی آذادی چھیننے کی مذموم کوشش کی ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کے افراد جو تنظیمی عہدوں کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر غیر سنجیدہ حرکات کرتے ہیں اُس پر نوٹس لیں تاکہ معاشرے میں حکمران جماعت کی ساکھ برقرار رہ سکے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا