گلگت (نامہ نگار) سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کی صورت حال کے بعد جہاں پاکستانی سیاست میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے وہیں پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کے حکمرانوں نے بھی جذبات پر قابو رکھے بغیر سپریم کورٹ سمیت پاکستان کے ریاستی اداروں پر کھلی تنقید کے ساتھ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کو بھی نواز شریف کی سیاست سے مربوط اور حافظ حفیظ الرحمن نے اس فیصلے کو بغاوت قرار دیا تھا۔ اُن کے اس بیانات کو پاکستان کے ساتھ غداری سے تشبیہ دیا جارہا ہے اور الیکٹرانک،پرنٹ اور سوشل میڈیا پر اس بیان کو لیکر زبردست محاذ آرائی جارہی ہیں۔ گلگت بلتستان میں پہلے پاکستان تحریک انصاف نے حفیظ الرحمن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کیلئے انکے حلقے کی تھانے میں درخواست جمع کی ہیں اس دیکھا دیکھی میں پی پی پی گلگت بلتستان کے متعدد رہنماوں اور کارکنوں نے بھی مختلف تھانوں میں وزیر اعلی کے خلاف مقدمات درج کرنے کے لئے درخواستیں جمع کی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس اقدام کو مکافات عمل قرار دیا جارہا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا