استور(نامہ نگار) گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے سبب یہاں اسمگل شدہ گاڑیوں کی بھرمار ہے صرف یہ نہیں بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں سے چوری شدہ گاڑیوں کو بھی گلگت بلتستان میں نان کسٹم پیڈ کا نام دیکر چلایا جاتا ہے۔ گاڑیوں کی اس بھر مار کو روکنے کیلئے سابق حکومت نے تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کو یقینی بناتے ہوئے تمام گاڑیوں کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد محکمہ ایکسائز کی جانب سے لوکل سطح پر نمبر پلیٹ جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔لیکن موجودہ حکومت کے دور میں مسلم لیگ نواز کے کارکنوں سے لیکر ممبران قانون ساز اسمبلی ،جی بی کونسل تک نے اس قانون کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ لیکن غریب عوام کیلئے آج بغیر سرکاری سطح پر الاٹ شدہ نمبر پیلٹ کے گاڑی چلانا خطرناک جرم سمجھا جاتا ہے ۔ حکمران پارٹی کے لوگ کس کھاتے میں اس قانون سے بالاتر ہیں چیف سکریٹری کو چھان بین کرنے کی ضرورت ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا