سکردو(ٹی این این) جگلوٹ سکردو کی تعمیرکا مسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ ہوتی جارہی ہے کیونکہ وفاق پاکستان اس روڈ کی تعمیر کیلئے جیب سے پیسہ خرچہ کرنے کیلئے تیار نہیں اور متنازعہ حیثیت کے سبب کوئی بھی بین الاقوامی بنک یا ادارہ قرضے کی بنیاد پر اس سڑک کی تعمیر کیلئے انویسمنٹ کیلئے راضی نہیں۔لیکن مقامی حکومت کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہتی ہے کہ کسی بھی طرح جھوٹے وعدوں کے ذریعے اُنکی حکومتی مدت پوری ہوجائے یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سے لیکر اسپیکر تک ہمیشہ اس سڑک کی تعمیر کے حوالے سے جھوٹ بولتے رہے ہیں ۔گزشتہ مہینے مرکزی امامیہ جامع مسجد کے امام کی جانب سے سڑک کی تعمیر میں تاخیر پر بلتستان سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی کو استعفیٰ دینے کا مطالبہ سامنے آتا تھا اُس مطالبے کو گلگت بلتستان کے عوام میں بڑی پذیرائی ملی تھی لیکن اچانک حکومت نے سکردو روڈ کی تعمیر کا اعلان کرکے عوام کو حیران کردیا اور پیش امام صاحب نے بھی اُس جھوٹ سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ اس مسلے کو لیکر فداناشاد کی طرف سے بلتستان کے عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے ایک تازہ بیان سامنے آیا ہے جس میں مصوف نے دعوی کیا ہے کہ سکردو روڈ کو سی پیک میں شامل کیا گیا ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے نہ اُس نے سوچا ہوگا نہ عوام میں شعور ہے کیونکہ سی پیک سے متنازعہ حیثیت کے سبب پورے گلگت بلتستان کو کچھ نہیں ملا رہا ہے تو صرف سکردو روڈ کیلئے الگ سے قانون کہاں سے آگیا سوچنے والی بات ہے۔ناشاد کی اس بیان کو لیکر سوشل میڈیا پر خوب جگ ہنسائی ہورہی ہے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا