سکردو(ٹی این این ) سکردو یوتھ ایکشن کمیٹی سول سوسائٹی اور بلتستان کے باشعور طبقوں نے کہا کہ سکردو بلتستان کے ساتھ ہمیشہ سے ہی سوتیلی ماں جیسا سلوک رکھا جاتا ہے۔
ہر معاملے میں نظر انداز کیا جارہا ہے۔
انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہونے کے باوجود ٹورسٹ پولیس سکردو کو نئی گاڑیاں فراہم نا کرنا زیادتی اور پورے علاقے کے خلاف سازش ہے۔
علی سدپارہ کے نام پر اعلان ہونے والے کوہ پیمائی کے سکول کو بھی منظم سازش کے تحت دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔
سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کی سہولیات کے لیئے فوراً ٹورسٹ پولیس کا الگ محکمہ قائم کیا جائے اور نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں۔
سکردو کے بہت سے پولیس اہلکار ترقی کے منتظر ہیں لیکن علاقائی تعصب کی بنیاد پر ان کو آگے ترقی نہیں دی جارہی۔
اس کے علاؤہ پولیس ٹرینینگ سکول کو بھی بار بار عوامی مطالبے کے باوجود دوبارہ بحال نہیں کیا جارہا۔
گورنر گلگت بلتستان،
وزیر اعلی گلگت بلتستان،
چیف سیکریٹری گلگت بلتستان
فوراً معاملات کا نوٹس لیں۔ ورنہ اس کے بروئے نتائج نکلے گا اور گلگت سے بلتستان ریجن کو الگ کرنے کی تحریک بھی شروع کی جاسکتی ہے بلتستان کے ساتھ دشمنی ہرگز قابل قبول نہیں ہیں
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا