اسلام آباد (بشیراحمد قریشی )
جمعیت علما اسلام گلگت بلتستان کے وفد نے آج جمعیت علما اسلام کے مرکزی امیر اور پی ڈی ایم کے صدر حضرت مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ میں شام تین بجے ملاقات ہوئی ، امیر مرکزیہ سے قبل صبح 11 بجے جمعیت علما اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری صاحب سے پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات ہوئی۔
علامہ عبدالغفور حیدری صاحب سے تنظیمی امور اور تحریک عدم اعتماد پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
جب غفور حیدری صاحب سے کہا کہ سنا ہے سلیکٹڈ وزیر اعظم نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لئے اسمبلی کو رئپیر کرنے کے بہانے اکھاڑ بچھاڑ کر رکھ دیا ہے تو حیدری صاحب نے ہستے ہوئے کہا کہ ایسا ہوا تو اسمبلی اجلاس باہر سڑک پر کر لینگے اور عدم اعتماد آکر رہے گی۔
حیدری صاحب سے ملاقات کے بعد قائد ملت اسلامیہ سے ملاقات کے لئے ان کی رہائش گاہ پہنچے۔
حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب سے گھنٹوں پر محیط انتہائی دلچسپ ملاقات رہی ۔
دوران ملاقات عبوری صوبہ گلگت بلتستان دلچسپی کا حامل رہا ۔
مولانا صاحب نے عبوری صوبے پر سیر حاصل گفتگو کی اور تاریخی حوالے دے کر صوبے کے نقصانات اور کشمیر کاز پر اس کے اثرات سے آگاہ کیا ۔
صدر پی ڈی ایم نے فرمایا ہندوستان نے آرٹیکل 370 اور 35 A کا خاتمہ کر کے جموں کشمیر کو تحویل میں لیا ہے اسے حکومت پاکستان کشمیر اشو سے جڑے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنا کر تقویت پہنچا رہی ہے جس سے عالمی برادری میں پاکستان کا کیس بہت کمزور پڑ جائے گا ۔
قائد جمعیت نے کہا کہ جلدی میں عبوری صوبہ بنانے کے بجائے ماہرین قانون سے مشاورت کر کے عوامی رائے حاصل کرنے کے بعد جی بی کے مستقبل کا فیصلہ ہونا چاہئے ۔
آخر میں تحریک عدم اعتماد پر بھی گفتگو ہوئی۔
جمعیت علما اسلام گلگت بلتستان کے وفد میں مولانا عطا اللہ شہاب صوبائی امیر جے یو آئی گلگت بلتستان ، الحاج رحمت خالق سینئر نائب امیر و پارلیمانی لیڈر جے یو آئی جی بی اسمبلی، قائم مقام جنرل سیکرٹری بشیر احمد قریشی، سابق امیدوار دیامر ون مفتی ولی الرحمان نائب امیر جے یو آئی جی بی، مولانا عنایت اللہ میر نائب امیر جے یو آئی جی بی، سابق امیدوار دیامر فور مولانا عبدالرشید، مولانا محمد شریف سینئر نائب امیر جے یو آئی ضلع دیامر اور قاری غلام اللہ قریشی سیکرٹری اطلاعات جے یو آئی ضلع دیامر شامل تھے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا