گلگت (پ ر) گلگت بلتستان میٹل منرلز اینڈ جیمز ایسوسی گلگت کی جانب سے جاری کردہ پریس رلیز میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان میں مائینگ سیکٹر کی ترقی کے لیے سیکریٹری منرلز آصف اللہ کا کردار انتہائی قابل ستائش ہے جو قانون اور انصاف کے مطابق جرات مندانہ فیصلے کرنے کے قائل ہیں۔ حکومت سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئے روز سیکریٹری تبدیل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ سیکٹر کے کام کے تسلسل کو جاری رکھا جا سکے۔ جب بھی کوئی سیکٹری معاملات کو سمجھ کر سیکٹر کے مسائل اور رکاوٹوں کو دور کرنے لکتا ہے تو اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ ہے سیکٹر جمود کا شکار ہے۔
منرل ایسوسی قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے علاقے کے عوام کے حقوق کے ساتھ ساتھ لیز ہولڈرز و سرمایہ کاری کا بھی تحفظ چاہتے ہیں۔ جہاں ہم عوام کے حقوق و ریالٹی کی بات کرتے ہیں وہاں لیز ہولڈرز کو اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنا بھی سیکٹر کی بقاء کے لیے لازمی سمجھتے ہیں کیونکہ جب تک ہم سرمایہ کارو کو محفوظ ماحول فراہم نہیں کریں گے اس وقت تک کوئی گلگت بلتستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کی ہمت نہیں کرے گا اور یہ سیکٹر جمود کا شکار رہے گا۔ آصف اللہ صاحب فرض شناس اور نڈر شخصیت کے مالک ہیں جو جو قانون کے مطابق معاملات چلانے میں اچھی شہرت رکھتے ہیں۔
ناصر آباد کے لیز ہولڈرز کے درمیان جو تنازعہ ہے اس میں گلگت بلتستان میٹل منرلز اینڈ جیمز ایسوسی مصالحتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ جب تک بے جا تنازعات کو تحت قانون وانصاف یا مصالحتی عمل کے ذریعہ حل نہ کیا جائے اس وقت تک الجھاؤ کی کیفیت رہتی ہے، جو کسی کے حق میں نہیں ہے۔
خطے سے غربت کے خاتمے اور منرل کی صنعت سے وابستہ معاشی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے لازمی ہے کی کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں اور تحت قانون و انصاف معاملات چلائے جائیں۔
اگر سازگار ماحول فراہم کرنے میں ہم کامیاب ہوئے تو بہت جلد گلگت بلتستان میں بڑی معاشی سرگرمیاں شروع ہوں گی جو بڑے سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی معاشی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا انشاء اللہ ۔
گلگت بلتستان میں مائینگ سیکٹر کی ترقی کے لیے سیکریٹری منرلز آصف اللہ کا کردار انتہائی قابل ستائش ہے ۔ منرل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا