سکردو (ٹی این این) سکردو دریا پار بلتستان یونیورسٹی کے بالمقابل بہت سارے درختوں کو نہ صرف اکھاڑا گیا ہے بلکہ بہت سوں کو توڑا کر پھینکا ہے ساتھ ہی ساتھ کئی بکرگوٹھ کو بھی اکھاڑ کر سامان غائب کیا ہے جوکہ آباؤ اجداد سے موجود تھے اس سلسلے میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ سرکاری اہلکاروں نے اکھاڑ کر پھینکا دیا گیا ہے اہالیان چھومیک کے نوجوانوں جن میں علی محمد محمد حیدر اشرف حسین و محمد زاکر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ سرفہ رنگاہ شگر اور اہالیان چھومیک اولڈینگ کے مابین حد بندی تنازعہ ہے حدور پھلانگ کر درختوں کو اتنی بے دردی سے اکھاڑ پھینکنا قتل کرنے کے مترادف ہے جبکہ سرفہ رنگاہ شگر باؤنڈری پر ایک بھی درخت نہیں اکھاڑا ہے انہوں نے کمشنر بلتستان اور ڈی جی بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ شگر کی مداخلت اور یکطرفہ طور پر عوامی درختوں کواکھاڑ پھینکنے والوں پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں ضلع سے ٹرانسفر کرکے انکوائری کریں اور ہماری تحفظات دور کریں تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے.
چھومیک فرول میدان میں سرکار نے درختوں کو اکھاڑ پھینک دیا علاقے کے عمائدین نے بڑا مطالبہ کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا