سکردو( نمائندہ خصوصی) سٹی مجسٹریٹ انیلا مھدی نے آٹا چوری کے واقع کی تحقیقات شروع کر دیں، اسسٹنٹ کمشنر نے آٹا سمگلنگ کیس پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ کو تین روز میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کرنے کی ہدایات کی ہے، سٹی مجسٹریٹ انیلا مھدی نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے جمعے کے روز مختلف فلور ملز پر چھاپہ مارا اور شواہد قبضے میں لےکر تحقیقات شروع کر دیں ہیں، چھاپے کے دوران ڈیجیٹل ویٹ نہ رکھنے والے فلور ملز پر 30 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا، اسسٹنٹ کمشنر سکردو نے آٹا سمگلنگ کیس پر کاروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے اور قانون کے مطابق سزائیں دینے کا فیصلہ کیا ہے، زرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق سکردو سے ضلع کے مختلف شہروں میں آٹا سمگل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے شہر میں عوام آٹے کے مصنوعی بحران کا بھی سامنہ کرنا پڑ رہاہے، زرائع کے مطابق آٹے کی سمگلنگ میں فلور مل مالکان کے ساتھ آٹا ڈیلرز اور تاجروں کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،
سٹی مجسٹریٹ سکردو انیلا میدی نے ڈیجیٹل ویٹ نہ رکھنے والے فلور ملز مالکان پر جرمانے کے ساتھ اٹے کی سمگلنگ روکنے کی ٹھان لی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا