سکردو (پ،ر) نائب امام جمعہ مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو کے خطیب شیخ فدا حسن عبادی بلتستان یونیورسٹی انتظامیہ پر برس پڑے. جامع مسجد سکردو میں خطبہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ بلتستان یونیورسٹی ہمارے جوانوں کا مستقبل اور سرمایہ ہے۔اس یونیورسٹی کی تعمیر وترقی کے لیے ہر ممکن قربانی کے لیے ہم تیار ہیں۔ انہوں نے کہا اس وقت یونیورسٹی کے انتظام و انصرام 100 فیصد نا اہل لوگوں کے باتھوں میں ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے بارے میں شکایت کے انبار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی طرف سے بلتستان یونیورسٹی کے لیے عطیہ کردہ زمین کے کسی دوسرے ارداے کو دینے کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔
یونیورسٹی کے اندر ہونے والی غیر قانونی وسفارشی بھرتیوں پہ بھی عوام سراپا احتجاج ہے۔ عوامی شکایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تمام غیر قانونی وسفارشی بھرتیوں کو فی الفور کالعدم قرار دیا جائے اور میرٹ پہ اہل اور حقدار لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ خطبے میں انکا کہنا تھا کہ ہم موجودہ وی سی کی کارکردگی سے بلکل بھی مطمئن نہیں ہیں لہذا موجودہ وی سی کو فی الفور ہٹا کر ایک ماہر اور مخلص وی سی کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔ اور سینڈیکیٹ کے سئینیر ممبران جنہوں نے یونیورسٹی معمولات کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں ان کے تحفظات فوری دور کرنے پہ زور دیتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ بجلی و لکڑی کے بحران کے خاتمے کے متعلقہ ادارے اور وزراء عملی طور پر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے . انہوں نے عوامی منتخب نمائندوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عارضی ملازمین کی مستقلی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اسمبلی میں بل پاس کر کے ان کی داد رسی کے لیے اسباب پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران آئینی عبوری صوبے کے قیام کا نعرہ بڑے زور و شور سے لگا تھا۔ اب اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا چاہتا ہے۔ تمام منتخب نمائندے اس سلسلے میں اپنی زمہ داریاں نبھائیں۔
بلتستان یونیورسٹی کے انتظام و انصرام سو فیصد نا اہل لوگوں کے باتھوں میں ہے. وائس چانسلر کی تبادلے کا مطالبہ کرتے ہیں. خطیب امامیہ جامع مسجد سکردو.
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا