سکردو(پ ر) بلتستان یونیورسٹی کے حولے سے زیر گردش خبروں کے بارے میں طلباء کونسل یونیورسٹی آف بلتستان تحقیقات کر رہی ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام تر حقاٸق سے قوم کو آگاہ کرنے کے ساتھ زمہ داروں کے خلاف بر پور احتجاج بھی کرینگے۔
طلباء کونسل یونیورسٹی آف بلتستان کی جانب سے زراٸع کو بتایا گیا ہے کہ پیچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر بلتستان یونیورسٹی سے متعلق مختلف خبریں گردش کر رہی ہے جن کے بارے میں طلبا کونسل نے ایک میٹینگ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان خبروں کے بارے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرینگے اور اس کے بعد تمام تر حقاٸق سے قوم کو آگاہ کرینگے۔ طلبا کونسل کی جانب سے کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے تمام سینیر فیکلٹی ممبران جو یونیورسٹی سنڈیکیٹ کا ممبرز ہیں آج اور اس سےپہلے ہونے والی ایک سنڈیکیٹ میٹینگ کا بأٸیکاٹ کیا ہے۔ باٸیکاٹ کی وجہ وی سی اور رجسٹرار کی جانب سے غیرقانونی کاموں کو سنڈیکیٹ سے غیر قانونی طور پر پاس کرانے کی کوشیش ہے۔ نیز سنڈیکیٹ میں موجود سینیر ممبران کو مکمل اگنور کر کے سنڈیکیٹ میں نٸے ممبران شامل کیا گیا ہے جن کے زریعے سے وی سی اور رجسٹرار پیچھلے دو سالوں میں ہونے والے ناجاٸز اور غیر قانونی کاموں کا اپرول لینا چاہ رہے ہیں۔ واضح رہے سینیر ممبران کے باٸیکاٹ کے بعد موجودہ ممبران میں صرف وہ لوگ شامل ہے جو خود یا تو غیر قانونی طریقے سے بھرتی ہوی ہے یا انکو آنے والے سلیکشن بورڈ میں ایک بار پھر غیر قانونی طریقے سے بھرتی کرنے کا قوی امکان ہے تاہم طلبا کونسل نے آج ایک میٹینگ کے بعد تحقیقات شروع کی ہے چند دنوں کے اندر تمام تر حقاٸق سے قوم کو آگا کرینگے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا