گلگت (ٹی این این) گلگت میں ہائی سیکورٹی زون میں دن دھاڑے شرپسند عناصر بے قابو ہوگیا. تفصیلات کے مطابق شرپسندوں کے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے قریب محکمہ جنگلات کے آفس اور سرکاری گاڑی کو آگ لگادی. عوامی حلقوں میں اس حوالے سے سخت تشویش پایا جاتا ہے کیونکہ اس مقام بریل لگا کر سیکورٹی فورسز 24 گھنٹہ ڈیوٹی کرتے ہیں ایسے میں کس طرح شرپسند عناصر بڑی آسانی سے سرکاری املاک کو آگ لگا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے. یاد رہے گلگت حلقہ 2 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل احمد اور تحریک انصاف کے فتح اللہ خان کے درمیان دھاندلی کے الزامات پر دونوں کے طرف کے کارکنوں کا آمنا سامنا ہے. سینیر صحافی عبدالجبار ناصر کے مطابق حلقہ دو گلگت میں ریٹرننگ افیسر نے فارم 49 جاری کرتے ہوئے تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے امیدواروں کی مشاورت اور مفاہمت سے 1700 سے زائد پوسٹل بیلٹ پیپرز کا فرانزک کے بعد نتائج جاری کرنے کی تجویز دی تھی۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اس تجویز یا مفاہمت یا معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے تحریک انصاف کے امیدوار کے حق میں نوٹیفکیشن جاری کررہے تھے اور اطلاع ملتے ہی پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے احتجاج شروع کیا اور پھر نامعلوم افراد نے ہنگامہ آرائی شروع کی۔
گلگت میں سیاسی گرما گرمی کے ساتھ حالات کشیدہ، شرپسند عناصر بے لگام.
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا