سکردو ( خصوصی رپورٹ) سکردو حلقہ 1 کے منتخب نمائندہ راجہ زکریا خان مقپون نے کہا ہے سکردو گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اس حلقے کے عوام نے تحریک انصاف کے امیدوار پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ ن کے سابق سینیئر وزیر کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر اپنا نمائندہ منتخب کی ہے چونکہ میں عوام کے درمیان سے آیا ہوں اور عوام سے براہ راست رابطے میں ہوں عوام چاہتے ہیں سکردو حلقہ 1 کو کابینہ سمیت گلگت بلتستان کے حکومت سازی میں اہمیت ملے مگر افسوس کی بات ہے کہ سکردو شہر سے گورنر کے عہدے کا بہانہ بناکر حلقہ 1 کو حکومت سازی کے مرحلے میں وزارتوں سے دور رکھنے کی بھرپور مہم چل رہی ہے اور رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں یہ اقدام سکردو حلقہ 1 کے عوام کی توہین اور سکردو شہر کے ساتھ نا انصافی کی انتہاء ہے یہاں اقتدار یا مفادات کی جنگ نہیں بلکہ علاقہ اور عوام کے عزت و وقار کی بات ہے میرے حلقے کے عوام اور شہر کا احترام میرے لئے مقدم ہیں مناسب وزرات دینے میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کو صاف پیغام دیتا ہوں اگر عہدہ عوامی امنگوں کے مطابق نہیں دے سکتے ہیں تو لولی لنگڑی اور عوامی مسائل حل کرنے کی طاقت نہ رکھنے والی وزارت قبول نہیں کرسکتے ہیں سکردو کے عوام سے براہ راست رابطے میں ہوں عوام اور عمائدین اور معززین کا پیغام ملا ہے سکردو حلقہ 1 کے مسائل اور اہمیت دونوں کے مطابق وزارت نہیں ملتی ہے تو خانہ پوری والی وزارت قبول نہ کریں لہذا میں عوامی خواہشات کے آگے ذاتی مفاد یا کسی بھی وزارت کے لالچ میں جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے عوام چاہتے ان کے مسائل حل ہوں مافیاز کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ مجھے کوئی با اختیار وزارت ملتی ہے تو نہ صرف ان کے سامنے رکاوٹیں حائل ہوگی بلکہ میں اپنے علاقے اور حلقہ کو کمیشن مافیاز کے حوالے کرنے کی بجائے حلقہ کے سر کردگان عمائدین، معززین اور نوجوانوں کے ساتھ ملکر کام کریں گے اسی لئے تمام مافیاز میرے خلاف سرگرم ہوگئے ہیں امید ہیں وزیراعظم عمران خان سمیت اعلیٰ قیادت پارٹی پالیسی کے تحت وزارتوں کے تقسیم اور حکومت سازی کا عمل مکمل کریں گے
سکردو حلقہ 1 کو وزارتوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے, خانہ پوری والی وزارت قبول نہیں مافیاز روز اول سے میرے خلاف سرگرم ہیں. راجہ ذکریا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا