سکردو(پ،ر) سکردوحلقہ نمبر تین جو کہ سپیکر حاجی فدا محمد ناشاد کاحلقہ انتخاب ہے ،غیر معیاری سرکاری منصوبوں اور کرپشن کا قبرستان بن گیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے سیاسی مقاصد کیلئے عوام کے نام پر حاصل ہونے والے سرکاری منصوبوں پر غبن اور کرپشن کرنے کیلئے اُن کے سیاسی سپورٹر ٹھیکداروں کو کھلی چھوٹ دے رکھا ہے جو انہیں الیکشن کا خرچہ دیتے ہیں اور بعد ازاں دوگناوصولی کرتے ہیں اور یہ ساری وصولیاں جیتنے والارکن اسمبلی عوامی کے پیسوں سے کراتا ہے۔وہ اپنے سیاسی سرمایہ کاروں کو کئی طریقوں کو نوازتے ہیں جن میں ٹھیکیداروں کے عزیز و اقارب کو سرکاری نوکریوں سے نوازنا اور ٹھیکوں کی بندربانٹ سرفہرست ہے۔ سفارشی ٹھیکیدار نہ صرف ٹھیکے منہ مانگے داموں وصول کرتے ہیں بلکہ انتہائی غیر معیاری کام کر کے کڑوڑوں روپے بچاتے ہیں۔اب ان ٹھیکیداروں کو رکن اسمبلی کی اشیر باد ہونے کی وجہ سے سرکاری آفیسران بھی ان سے مطلوبہ معیار کا کام لینے سے معزورنظر آتا ہے جس کا انجام بعد ازاں پوری بلڈنگ،پل یا منصوبے انتہائی قلیل وقت میں زمین بوس ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح کی کئی مثالیں سکردو حلقہ نمبر تین میں سامنے آیا ہے۔ رواں سال میں مہدی آباد سے پندہ کوملانے ولا پل برف کا بوجھ سہہ نہ پایا اور زمین بوس ہو گیا اسی طرح غاسنگ نالہ روڈ کی تعمیر اور اپ گریڈ کیلئے دو مرتبہ فنڈ منظور ہونے کے باوجود اس وقت نام نشان تک موجود نہیں۔منٹھوکھا بجلی گھر کی تعمیر کیلئے بھی غیر معیاری طریقہ استعمال کرتے ہوئے اُن سیاسی سپورٹر نے علاقے کے پارٹی ورکروں کو ٹھیکے پر دیکر کوالٹی کی دھجیاں اُڑائی گئی ،اُنہی کی آشیرباد سے منٹھوکھا نالے کو اُنکے حواریوں نے ایک طرح سے فکس ڈیپازٹ سمجھ رکھا ہے جو فنڈز لاتے ہیں اور کھا جاتے ہیں،منٹھو نالہ روڈ کی تعمیر کے وقت ملازمت دینے کے بہانے کئی افراد کے کھیتوں کے درمیان سے سڑک گزرا لیکن بعد میں نوکریاں اُن کے سیاسی حواریوں کے نام کردیا اور یہ سڑک بھی آج خستہ حالی کا شکار ہے۔ اسی طرح نر غوڑو پل بھی چند ہی سالوں میں کرپشن کی وجہ سے دریا برد ہوگئے، کتشوکا ایک سکول کسی کام میں لائے جانے سے پہلے ہی زمین بوس ہونے والا ہے ۔اسی طرح ڈورو کا پرائمری سکول جو ایک این جی او نے بنایا مگر کئی بار سرکار فنڈ سے مرمت کی گئی وہ تین سال سے کھنڈر بنا ہوا ہے۔ حال ہی میں ان کا ایک چہیتا ٹھیکیدارغاسنگ کے ایک سکول میں غیر معیاری کام کرتے پکڑا گیا اور سوشل میڈیا پر شور مچائے جانے کے بعد دوبارہ بھرائی کرائی گئی، منٹھوکھا نالہ میں صرف اپنے حواریوں کو نوازنے کیلئے اسکول تعمیر کرایا جبکہ وہاں کوئی رہتا ہی نہیں ہے۔ اسی طرح اُن کے حلقے میں ایسے افراد کو بھی سرکاری نوکریوں پر لگایا گیا ہے زائد عمر ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی طرح میرٹ پر نہیں اُترتے، ایسے بھی افراد اس علاقے میں باقاعدہ سیاست کرتے ہیں جو پیشے کے لحاظ سے سرکاری محکموں میں خاکروب ،چپراسی اور چوکیداری کرتے ہیں لیکن گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرتے ہیں اور باقاعدہ ناشاد کیلئے سیاست کرتے ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا