کھرمنگ( تحریر نیوز) ضلع کھرمنگ میں ایک ایسے اسکول کا انکشاف ہوا ہے جسے صرف کرپشن اور نوکریوں کیلئے بنایا گیا تھا جو آج ویران پڑی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کھرمنگ کے سیاحتی مقام موضع منٹھوکھا کے نالے میں واقع رونگول نامی گاوں جومنٹھوکھا سے اپر نالے کی طرف بیس کلومیٹر کے فیصلے پر واقع ہیں یہاں کی ٹوٹل آبادی صرف سات خاندانوں پر مشتمل ہیں اور سات میں سے چھے گھرانے صرف گرمیوں کے موسم میں کاشت کاری کیلئے وہاں جاتے ہیں اس گاوں کا مستقل رہائشی صرف ایک خاندان ہے جنکے ہاں بچے بھی نہیں۔ یعنی اسکول میں انرولمنٹ شروع سے لیکر آج تک زیرو ہے۔
کہا یہ جارہا ہے کہ اس عمارت کیلے اساتذہ بھی ہیں اور گریڈون بھی جو گورنمنٹ کے خزانے سے باقاعدہ تنخواہ وصول کرتے ہیں لیکن اسکول کے نام پر بنی اس عمارت کولوگ گھاس وغیرہ رکھنے کیلئے استعمال کرتے ہیں اوربارش اور برف باری کے موسم مویشی بھی یہاں پناہ لیتے ہیں۔
یاد رہے یہ گاوں اسپیکر حاجی فدا محمد ناشاد کے حلقے میں آتا ہے اور بتایا یہ جارہا ہے کہ اُنہوں نے اپنے سیاسی سپورٹروں کو نوکریاں فراہم کرنے کیلئے یہ منفرد طریقہ استعمال کیا تھا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا